உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اسکالر شپ پر انسانی وسائل کی وزارت کا بیان محض دھوکہ:اے آئی ایس یو

    یوجی سی: فائل فوٹو

    یوجی سی: فائل فوٹو

    نئی دہلی۔ آل انڈیا اسٹوڈنٹس یونین(اے آئی ایس یو)نے انسانی وسائل کی وزارت کے اس بیان کو دھوکہ قرار دیا ہے جس نے ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طالب علموں کو اسکالر شپ جاری رکھنے کی بات کہی ہے اور یونیورسٹی گرانٹ کمیشن(یو جی سی)کے سامنے اپنی تحریک آج سے پھر جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔ آل انڈیا اسٹوڈنٹس یونین(اے آئی ایس یو)نے انسانی وسائل کی وزارت کے اس بیان کو دھوکہ قرار دیا ہے جس نے ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طالب علموں کو اسکالر شپ جاری رکھنے کی بات کہی ہے اور یونیورسٹی گرانٹ کمیشن(یو جی سی)کے سامنے اپنی تحریک آج سے پھر جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔


      اے آئی ایس یو کی قومی صدر سوچیتا ڈے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ انسانی وسائل کی ترقی کی وزارت نے یہ نہیں کہا ہے کہ آئندہ برس بھی طالب علموں کو اسکالر شپ فراہم کرائی جائے گی بلکہ اس نے ایک کمیٹی قائم کی ہے جس میں اقتصادی بنیاد یا دیگر بنیاد پر طالب علموں کو اسکالر شپ دینے کی بات کہی گئی ہے اور یہی یو جی سی کا بھی کہنا ہے ۔یو جی سی نے طالب علموں کو میرٹ کی بنیاد پر اسکالر شپ دینے کی بات کہی تھی اور آئندہ سال سے نئے طالب علموں کو پرانی اسکالر شپ نہیں دینے کی بات کہی تھی۔


      ادھر انسانی وسائل کی وزارت بھی کم و بیش یہی بات کہہ رہی ہے۔ اس نے بھی ابھی تک یہ نہیں کہا ہے کہ آئندہ برس بھی نئے طالب علموں کو اسکالر شپ جاری رہے گی ۔اس کا مطلب ہے کہ اقتصادی یا میرٹ کی بنیاد پر اسکالر شپ دی جائے گی۔


      آئیسا کا کہنا ہے کہ جب ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طالب علم تحریری امتحان اور انٹرویو دینے کے بعد ہی تحقیق کے لئے منتخب کئے جاتے ہیں تو انہیں دوبارہ نیٹ کےامتحان کی
      بنیاد پر کیوں منتخب کیا جائے جب نیٹ کے امتحان میں اتنی خامیاں ہیں اور ہر سال سوالات بھی غلط آتے ہیں اور طالب علموں کو ہر سال اپنے نمبرات کی جانچ کے لئے درخواست دینی پڑتی ہے تب دوبارہ نظر ثانی کئے ہوئے نتائج شائع کئے جاتے ہیں۔لہذا ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طالب علموں کو ملنےوالي اسکالر شپ میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے بلکہ اس کی رقم میں مزید اضافہ کیا جائے اور اسے قیمت عشاریہ میں شامل کیاجائے کیونکہ اس بڑھتی مہنگائی میں اب اتنی رقم سے کچھ نہیں ہوتا تو ایم فل کے لئے رقم کوپانچ ہزار سے بڑھاكر آٹھ ہزاراور پی ایچ ڈی کے لئے آٹھ ہزار سے بڑھاكر بارہ ہزار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری صورت میں ہماری تحریک آج دوپہر سے پھر جاری ہو جائے گی اور اب اس میں مزید تیزی لائی جائے گی۔


      غور طلب ہے کہ یو جی سی نے ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طالب علموں کے وظیفے بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یو جی سی کے اس فیصلے سے ملک کے 12 ہزار سے زیادہ ریسرچ اسکالرز کی تعلیم خطرے میں پڑ گئی ہے اور ملک بھر میں طلبہ نے اس فیصلے کی مخالفت میں مظاہرہ کرنا شروع کر دیا تھا۔ اسی دوران دس طلبہ تنظیموں اورٹیچرس ایسوسی ایشن نے ایم فل اور پی ایچ ڈی میں اسکالر شپ کو ختم کرنے کے خلاف پیر سے یو جی سی کے سامنے اپنی تحریک دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔اے آئی ایس یو،اے آئی ایس ایف،ایس ایف آئی،ڈی ایس ایف، نوروز جواہر لال نہرو اسٹوڈنٹس یونین اور آل انڈیا فور فار رائٹ ٹو ایجوکیشن نے کل رات میٹنگ کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے۔


      ان اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے یو جی سی کی طرف سے ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طالب علموں کو نیٹ امتحان پاس کرنے کے بعد ہی اسکالر شپ دینے کے اختیارات کو مسترد کر دیا تھا۔ طالب علموں کا کہنا تھا کہ جب ایم فل اور پی ایچ ڈی کے داخلے میں طالب علم تحریری اور زبانی امتحان دیتے ہی ہیں تو پھر حکومت کیوں چاہتی ہے کہ یہ طالب علم نیٹ کے امتحان بھی بنیادی طور پر پاس کریں۔


      اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے حکومت سے اپنا فیصلہ فوری طور پرواپس لینے کی مانگ کی تھی اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں ملک بھر میں طلبہ تحریک شروع کرنے کا انتباہ بھی دیا تھا۔ اس درمیان دہلی یونیورسٹی کے ٹیچرس یونین (ڈوٹا)کے بعد جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ٹیچرس یونین (جنٹا)نے بھی یو جی سی سے فورا اس وظیفے کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

      First published: