ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سپریم کورٹ نے پوچھا : اب تک اے ایم یو کے وائس چانسلر کیسے بنے ہوئے ہیں ضمیر الدین شاہ؟

سپریم کورٹ نے غیر تعلیمی شعبے کے کسی شخص کو ممتاز ادارہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کا وائس چانسلر مقرر کرنے پر آج کئی سوال کھڑے کئے۔

  • UNI
  • Last Updated: Sep 19, 2016 11:43 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
سپریم کورٹ نے  پوچھا : اب تک اے ایم یو کے وائس چانسلر کیسے بنے ہوئے ہیں ضمیر الدین شاہ؟
سپریم کورٹ نے غیر تعلیمی شعبے کے کسی شخص کو ممتاز ادارہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کا وائس چانسلر مقرر کرنے پر آج کئی سوال کھڑے کئے۔

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے غیر تعلیمی شعبے کے کسی شخص کو ممتاز ادارہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کا وائس چانسلر مقرر کرنے پر آج کئی سوال کھڑے کئے۔  چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر اور جسٹس اے ایم كھانولكر کی بنچ نے سماعت کے دوران کہا،’’اے ایم یو مرکزی یونیورسٹی ہے اور یونیورسٹی گرانٹ کمیشن (یو جی سی) کے قاعدے قانون اس پر لازمی طور پر لاگو ہوتے هیں۔ وائس چانسلر کو ماہر تعلیم ہونا چاہئے اور اس عہدے پر فائز ہونے والے شخص کو کسی یونیورسٹی میں ایک پروفیسر کے طور پر کم از کم 10 سال کا تجربہ ہونا چاہئے‘‘۔

کورٹ نے کہا، ’’جب تمام مرکزی یونیورسٹی اس اصول پر عمل کر رہے ہیں تو اے ایم یو کیوں نہیں؟ ایک فوجی افسر کو مقرر کیوں کیا گیا۔ ہم ان کی کارکردگی پر سوال نہیں کھڑے کر رہے ہیں، بلکہ ہم یو جی سی کے طے قوانین کے تحت ان کی تقرری پر سوال کھڑے کر رہے ہیں‘‘۔

درخواست گزار سید ابرار احمد کی جانب سے مسٹر پرشانت بھوشن نے اور اے ایم یو کی جانب سے سینئر وکیل راجو رام چندرن نے پیروی کی۔ معاملے کی اگلی سماعت 26 ستمبر کو ہوگی۔

First published: Sep 19, 2016 11:43 PM IST