ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ہندتو اصل قومی دھارا نہیں : ایس ڈی پی آئی

بی جے پی کی ہندتو کو اصل قومی دھارا بنانے کی مبینہ کوشش کو ناکام بنانے کے لئے سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے آج سیکولر حلقوں پر زور دیا کہ وہ عملی طور پر شمولیت اور مشارکت والی سیاست اختیار کریں ۔

  • UNI
  • Last Updated: Apr 12, 2018 07:29 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
ہندتو اصل قومی دھارا نہیں : ایس ڈی پی آئی
ڈاکٹر تسلیم رحمانی ۔ فائل فوٹو

نئی دہلی : بی جے پی کی ہندتو کو اصل قومی دھارا بنانے کی مبینہ کوشش کو ناکام بنانے کے لئے سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا [ایس ڈی پی آئی]نے آج سیکولر حلقوں پر زور دیا کہ وہ عملی طور پر شمولیت اور مشارکت والی سیاست اختیار کریں ۔ اس استدلا ل کے ساتھ کہ ایک سے زیادہ نظریاتی سیاست سے بری طرح متاثر قومی زندگی کو صحتمند خطوط پر بحال کرنے کے مقصد سے ایک نیا سیاسی محاذ کھولا گیا ہے ، ایس ڈی پی آئی کے ایک سے زیادہ ذمہ داروں نے آج یہاں اردو صحافیوں سے ایک ملاقات میں بظاہرکرناٹک اسمبلی الیکشن کے پس منظر میں ایک سے زیادہ حوالوں سے تبادلہ خیال کیا۔

پارٹی کے قومی رہنما ڈاکٹر تسلیم رحمانی نے حکومتی سطح پر موجودہ سیاسی منظر نامہ کو فرقہ وارنہ ہم آہنگی کے حق میں مضرت رساں بتایا اور الزام لگایاکہ اس سے فرقہ پرستی کو بڑھاوا دینے کے لئے دہشت گردی سے استفادہ کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ ’’منواسمرتی سے آئین بھی خطرے‘‘ میں ہے کہا کہ اس صورتحال کے عملی سد باب اسی وقت ہوگا جب ذات پات پر مبنی مردم شماری کے نتائج منظر عام پر لائے جائیں گے۔

پارٹی کے نائب صدرایڈوکیٹ شرف الدین احمد نے کہاکہ نظریاتی تصادم کے ماحول میں ایس ڈی پی آئی کا قیام اس مقصد سے عمل میں لایا گیا ہے کہ ملک کے نظام کو اس کی جمہوری ساخت سے الگ ہونے سے بچایا جائے تاکہ انصاف ،مساوات ،خوشحالی ،امن وسلامتی اور آزادی ہر فرقے اور طبقے کے لوگوں کا مقدر بن سکے۔

ان رہنماوں نے کہا کہ دائیں اور بائیں بازو کی نظریات کے علاوہ ذات اور علاقے کی نظریاتی سوچ کے ایک سے زیادہ تجربے کے بعد اب وقت آگیا ہے کہ ملک کو ایک سے زیادہ ذہنی خانوں سے باہر نکال کر شمولیت اور مشارکت والی سیاست سے ہم آہنگ کیا جائے اور چونکہ اس ذمہ داری کو انجام دینے کے محاذ پر آزمائی ہوئی سیاسی پارٹیوں بشمول پر آنکھ بند کرکے بھروسہ نہیں کیا جا سکتا اس لئے 2009 میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کی داغ بیل ڈالی ئی تھی جو اب قومی سطح پر پور طرح فعال ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر رحمانی نے کہا کہ جس طرح کسی مسلمان کی قیادت کانگریس کو مسلمانوں کی پارٹی نہیں بنا سکتی اسی طرح ایس ڈی پی آئی بھی مطلق مسلم پارٹی نہیں۔اس کے ذمہ داروں میں بلا تفریق فرقہ ، طبقہ و علاقہ سبھی شامل ہیں اور پارٹی کے تمام وابستگان کا بنیادی مقصدایک بہتر متبادل سامنے لانا ہے۔

First published: Apr 12, 2018 07:29 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading