ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جامعہ تشدد: اب ایک نیا ویڈیو سامنے آیا، طلبہ کے ہاتھ میں پتھر ہونے کا دعویٰ

اس ویڈیو کو پولیس کی لاٹھی چارج سے ٹھیک پہلے ہوئے واقعہ کا ویڈیو بتایا جا رہا ہے۔

  • Share this:
جامعہ تشدد: اب ایک نیا ویڈیو سامنے آیا، طلبہ کے ہاتھ میں پتھر ہونے کا دعویٰ
جامعہ تشدد: اب ایک نیا ویڈیو سامنے آیا، طلبہ کے ہاتھ میں پتھر ہونے کا دعویٰ

نئی دہلی۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ (Jamia Millia Islamia)  میں پچھلے سال 15 دسمبر کو دہلی پولیس (Delhi Police) اور طلبہ کے درمیان جھڑپ کا ایک نیا ویڈیو سامنے آیا ہے۔ پہلے ویڈیو میں جہاں سیکورٹی فورسیز لائبریری میں موجود طلبہ پر ڈنڈے برساتی نظر آئیں تو وہیں اب سامنے آئے ایک نئے ویڈیو میں کچھ طلبہ لائبریری میں گھستے ہوئے نظر آ رہے ہیں جن کے ہاتھ میں پتھر ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔



اس ویڈیو کو پولیس کی لاٹھی چارج سے ٹھیک پہلے ہوئے واقعہ کا ویڈیو بتایا جا رہا ہے۔ اس ویڈیو میں دکھائی دے رہا ہے کہ کچھ طلبہ لائبریری میں گھس رہے ہیں۔ وہیں، لائبریری میں گھسنے والے طلبہ کے ہاتھ میں پتھر دکھائی دے رہا ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طلبہ کے لائبریری میں گھسنے کے بعد لائبریری کے دروازے کو بند کر دیا جاتا ہے۔

یہ تھا پورا معاملہ

بتا دیں کہ شہریت ترمیمی قانون 2019 (CAA 2019)  پاس ہونے کے فورا بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ (Jamia Millia Islamia) کے طلبہ نے اس کی مخالفت میں احتجاج کیا۔ مخالفت میں نکالا گیا مارچ جلد ہی پرتشدد احتجاج میں تبدیل ہو گیا۔ اس کے بعد دلی پولیس (Delhi Police) نے طلبہ پر جم کر لاٹھی چلائی۔ اس وقت پولیس پر الزام لگا کہ اس نے لائبریری میں بیٹھے طلبہ کے ساتھ بربریت کی۔ لائبریری میں گھس کر اس نے توڑ پھوڑ کی اور طلبہ کی جم کر پٹائی کی۔ تاہم پولیس نے اپنی صفائی میں کہا کہ طلبہ پر ہلکی طاقت استعمال کی گئی تھی۔
First published: Feb 16, 2020 08:38 PM IST