உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سرسید صرف ماہرِ تعلیم نہیں بلکہ ایک سماجی مصلح، تاریخ داں اورانتہائی دوراندیش شخص تھے: پروفیسر صمدانی

    علی گڑھ ۔ علی گڑھ مہوتسو ۲۰۱۶ء سرکاری زراعتی و نمائش کے مکتاکاش منچ پر سر سید اویرنیس فورم کے ذریعہ آٹھواں قومی سیمینار پروفیسر شکیل صمدانی کی صدارت میں ’سر سید اور رواداری‘ کے موضوع پر منعقد کیا گیا۔

    علی گڑھ ۔ علی گڑھ مہوتسو ۲۰۱۶ء سرکاری زراعتی و نمائش کے مکتاکاش منچ پر سر سید اویرنیس فورم کے ذریعہ آٹھواں قومی سیمینار پروفیسر شکیل صمدانی کی صدارت میں ’سر سید اور رواداری‘ کے موضوع پر منعقد کیا گیا۔

    علی گڑھ ۔ علی گڑھ مہوتسو ۲۰۱۶ء سرکاری زراعتی و نمائش کے مکتاکاش منچ پر سر سید اویرنیس فورم کے ذریعہ آٹھواں قومی سیمینار پروفیسر شکیل صمدانی کی صدارت میں ’سر سید اور رواداری‘ کے موضوع پر منعقد کیا گیا۔

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:

      علی گڑھ ۔ علی گڑھ مہوتسو ۲۰۱۶ء سرکاری زراعتی و نمائش کے مکتاکاش منچ پر سر سید اویرنیس فورم کے ذریعہ آٹھواں قومی سیمینار پروفیسر شکیل صمدانی کی صدارت میں ’سر سید اور رواداری‘ کے موضوع پر منعقد کیا گیا جس میں مہمان خصوصی امیش چندر شری واستو ،ضلع جج علی گڑھ و مہمان اعزازی ڈاکٹر اصفر علی خاں، رجسٹرار علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، سنجے چودھری، سول جج، محترمہ مردلا مشرا، سی جے ایم ،علی گڑھ، پروفیسر این اے کے درانی، ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنس، پروفیسر رضوان حسن خان، صدر شعبہ بایو ٹکنا لوجی، پروفیسر انصار اللہ اور  ڈاکٹر خلیل چودھری نے شرکت کی۔


                      سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ضلع جج مسٹر امیش شری چندشری واستو نے کہا کہ سرسید نے ہمیشہ مذہبی رواداری پر زور دیا، سر سید ہمیشہ ہندو مسلم اور سبھی مذاہب کے لوگوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا کرتے تھے، سر سید ہمیشہ مذہبی شدت پسندی کے خلاف رہے اور جدید تعلیم، صحت اور ماڈرن سائنس کے حق میں رہے، انھوں نے مزید کہا کہ ہم سبھی کو سر سید کی زندگی سے سبق لینا چاہئے اور صحت اور صفائی کے پیغام کو اپنی زندگیوں میں اتارنا چاہئے۔ جج شری واستو صاحب نے فورم کے صدر پروفیسر شکیل صمدانی کو سیمینار کی بے پناہ کامیابی کے لئے مبارک باددی۔


       مسلم یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر اصفر علی خاں نے سرسید احمد خاں کو مذہبی رواداری کی ایک مثال بتاتے ہوئے سرسید کی لاہور میں دی گئی تقریر کا ذکر کیاجس میں سر سید نے زور دے کر کہا تھا کہ مسلم یونیورسٹی کے دروازے سب کے لئے کھلے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ تناظر میں سرسید کے خیالات اور افکار ملک اور عوام کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں جواب دلائل کے ساتھ دینا چاہئے اور ہمارا جواب اس طرح کا ہو کہ وہ رد عمل نہ ہوکر ایک عالمانہ جواب ہو۔


                      سیمینار کی صدارت کرتے ہوئے فورم کے قومی صدر پروفیسر شکیل صمدانی نے سرسید کی زندگی کے رواداری کے تعلق سے کئی واقعات کا پر اثر انداز میں ذکر کیا اور بتایا کہ ۱۸۵۷ کی غدر کے دوران بجنور کے ہندوئوں نے انگریزوں سے یہ مطالبہ کیا کہ ضلع کا انتظام سرسید احمد خاں کو دیا جائے اور کسی کو نہ دیا جائے کیونکہ انھیں صرف سرسید احمد خان پر بھروسہ ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ انگریزوں نے جب سرسید کو جاگیر عطا کرنی چاہی تو سرسید نے جاگیر لینے سے انکار کردیا کیونکہ ان کی نگاہ میں جاگیر لینے سے کہیں بہتر انگریزوں کو اپنے اعتماد میں لینا تھا جس کی بدولت انھوں نے ایم او کالج کا قیام کیا اور مسلمانوں کو جدید تعلیم کی طرف مائل کیا۔ پروفیسر صمدانی نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ سرسید صرف ماہرِ تعلیم نہیں تھے بلکہ ایک سوشل ریفارمر، فلاسفر، تاریخ داں، سماجی کارکن اور انتہائی دور اندیش شخص تھے اور اسی لئے انھوں نے ملک میں تعلیم کے حق میں فضا ہموار کی اور پورے ملک میں ہندوستانیوں میں جدید تعلیم کا رجحان پیدا کیا۔ پروفیسر صمدانی نے اخیر میں عوام کے جم غفیر سے یہ وعدہ کیا کہ وہ مسلم یونیورسٹی کو نمبر ون بنانے کے لئے جی توڑ محنت کریں گے اور فرقہ پرستی کو روکنے کے لئے حکمت اور تدبر کا مظاہرہ کریں گے ۔


                                      اس سیمینار کی خصوصیت یہ رہی کہ اس میں تقریباً تیس مندوبین اترپردیس اور ملک کے دوسرے حصوں سے شامل ہوئے اور بیرونی ممالک کے تقریباً تیس ریسرچ اسکالرس نے بھی حصہ لیا۔

      First published: