ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

رافیل پر مودی حکومت کو بڑا جھٹکا: مرکز کے اعتراضات سپریم کورٹ میں مسترد

مرکزی حکومت کا ابتدائی اعتراض تھا کہ کیا عدالت نظرثانی درخواست دائر کرنے والوں کی جانب سے دستیاب کرائے گئے خصوصی اور خفیہ دستاویزات پر سماعت کر سکتی ہے؟

  • UNI
  • Last Updated: Apr 10, 2019 12:10 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
رافیل پر مودی حکومت کو بڑا جھٹکا: مرکز کے اعتراضات سپریم کورٹ میں مسترد
نیوز 18 کریٹیو

 سپریم کورٹ نے بدھ کو مرکزی حکومت کو زبردست جھٹکا دیتے ہوئے ’خاص اور خفیہ‘ دستاویزات پر مرکز کے استحقاق کے دعویٰ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے دستاویزات عدالت میں درست ہیں۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس سنجے کشن کول اور جسٹس کے ایم جوزف کی بنچ  نے مرکز کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نظر ثانی درخواستوں کی سماعت میرٹ کی بنیاد پر کی جائے گی اور اس کے لئے نئی تاریخ مقرر کی جائے گی۔


جسٹس گوگوئی اور جسٹس جوزف نے الگ الگ، لیکن رضامندی کا فیصلہ سنایا۔ بنچ نے گزشتہ 14 مارچ کو مرکز کے ابتدائی اعتراضات پر فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ مرکزی حکومت کا ابتدائی اعتراض تھا کہ کیا عدالت نظرثانی درخواست دائر کرنے والوں کی جانب سے دستیاب کرائے گئے خصوصی اور خفیہ دستاویزات پر سماعت کر سکتی ہے؟


سابق مرکزی وزرا ارون شوری اور یشونت سنہا اور جانے مانے وکیل پرشانت بھوشن نے رافیل جنگی طیارہ سودا معاملہ میں عدالت کے گزشتہ سال 14 دسمبر کو دیئے فیصلے کا جائزہ لینے کے لئے عرضیاں دائر کی تھیں، جن میں انہوں نے کئی ایسے دستاویزات لگائے تھے جو مرکزی حکومت کی نظر سے خاص قسم کے اور خفیہ ہیں۔ مرکز کے سب سے بڑے لا افسر یعنی اٹارني جنرل کے کے وینو گوپال نے رافیل لڑاکا طیاروں سے متعلق دستاویزات پر استحقاق کا دعویٰ کرتے ہوئے دلیل دی تھی کہ ہندوستانی ثبوت ایکٹ کی دفعہ 123 کے تحت ان دستاویزات کو ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے دلیل دی تھی کہ یہ دستاویزات سرکاری رازداری قانون کے تحت محفوظ دستاویزات کے زمرے میں شامل ہیں اور متعلقہ محکمہ کی اجازت کے بغیر انہیں پیش نہیں کیا جا سکتا۔  وینو گوپال نے کہا تھا کہ کوئی بھی قومی سلامتی سے منسلک دستاویزات شائع نہیں کر سکتا، کیونکہ ملک کی سیکورٹی سب سے اوپر ہے۔


دوسری طرف وکیل پرشانت بھوشن نے دلیل دی کہ رافیل کے جن دستاویزات پر اٹارني جنرل استحقاق کا دعوی کر رہے ہیں، وہ شائع ہو چکے ہیں اور عوامی دائرے میں ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ حق اطلاعات قانون کے التزامات کہتے ہیں کہ مفادات عامہ دیگر چیزوں سے سب سے اوپر ہے اور خفیہ ایجنسیوں سے متعلق دستاویزات پر کسی قسم کے استحقاق کا دعوی نہیں کیا جا سکتا۔ بھوشن نے یہ بھی دلیل دی تھی کہ رافیل سودے میں دونوں حکومتوں کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہے کیونکہ اس میں فرانس نے کوئی خود مختاری نہیں دی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستانی پریس کونسل ایکٹ میں صحافیوں کے ذرائع کے تحفظ کے بھی التزامات ہیں۔

اس کے بعد عدالت نے کہا تھا کہ وہ مرکزی حکومت کے ابتدائی اعتراض پر فیصلہ کرنے کے بعد ہی کیس کے حقائق پر غور کرے گی۔

First published: Apr 10, 2019 11:52 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading