உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Ramazan Special: فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی انوکھی مثال، گجرات کی قدیم مندر میں افطار کا اہتمام

    Youtube Video

    جمعہ کے روز ورندا ویر مہاراج مندر (Varanda Vir Maharaj Mandir) نے افطار کا اہتمام کیا اور گاؤں کے کم از کم 100 مسلمان باشندوں کو رمضان کا روزہ افطار کرنے اور پھر مندر کے احاطے میں مغرب کی نماز ادا کرنے کی دعوت دی۔ یہ مندر تقریباً 1200 سال پرانا بتایا جاتا ہے اور گاؤں کے لوگوں کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔

    • Share this:
      ایک ایسے وقت میں جب ملک میں مذہبی و سماجی تانے بانے کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور سوشل میڈیا نفرت انگیز پوسٹوں سے بھرا ہوا ہے۔ ایسے میں گجرات میں ایک تاریخی ہندو مندر نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ایک انوکھی مثال قائم کی ہے۔ ضلع بناسکانتھا (Banaskantha) کے دلوانا گاؤں (Dalvana village) میں واقع مندر نے مسلمانوں کے لیے رمضان کے جاری مقدس مہینے میں روزہ افطار کرنے کے لیے اپنا دروازہ کھول دیا ہے۔

      جمعہ کے روز ورندا ویر مہاراج مندر (Varanda Vir Maharaj Mandir) نے افطار کا اہتمام کیا اور گاؤں کے کم از کم 100 مسلمان باشندوں کو رمضان کا روزہ افطار کرنے اور پھر مندر کے احاطے میں مغرب کی نماز ادا کرنے کی دعوت دی۔ یہ مندر تقریباً 1200 سال پرانا بتایا جاتا ہے اور گاؤں کے لوگوں کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔

      انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ میں مندر کے پجاری پنکج ٹھاکر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب دلوانا کے مسلمان باشندوں کو ایسے موقع پر مدعو کیا گیا ہے۔ ٹھاکر نے کہا کہ گاؤں کے لوگ ہمیشہ بقائے باہمی اور بھائی چارے پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی ان کے متعلقہ تہواروں کی تاریخوں میں تصادم ہوتا ہے تو گاؤں کے رہائشی ہمیشہ ایک دوسرے کی مدد کو یقینی بناتے ہیں۔

      مزید پڑھیں: EXPLAINED: پاکستان میں سیاسی ہلچل کا باقی دنیا کے لیے کیا ہےمطلب؟ کیاعالمی سیاست ہوگی متاثر؟

      رپورٹ میں ٹھاکر کے حوالے سے مزید کہا گیا ہے کہ اس سال مندر کے ٹرسٹ اور گرام پنچایت نے مسلمان روزداروں کو ہمارے مندر کے احاطے میں افطار کرنے کے لیے مدعو کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہم نے اپنے گاؤں کے 100 سے زیادہ مسلمان روزداروں کے لیے پانچ سے چھ قسم کے پھل، کھجور اور شربت کا انتظام کیا۔ میں نے ہماری مقامی مسجد کے مولانا صاحب کا ذاتی طور پر خیرمقدم کیا۔

      یہ بھی پڑھئے : کیا رمضان کے مہینہ میں میک اپ کرنے سے ٹوٹ جاتا ہے روزہ؟



      ایک مقامی مسلمان تاجر وسیم خان نے کہا کہ گاؤں کے لوگ ہم آہنگی سے رہتے ہیں اور اپنے تہوار منانے کے لیے مل کر کام کرتے ہیں۔ وسیم کے مطابق گاؤں کی پنچایت نے ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں سے رابطہ کیا اور انہیں تجویز دی کہ مسلمان جمعہ کو مندر میں افطار کریں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: