உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مسلم لڑکیوں کے لئے'شادی شگن اسکیم' دوسال سے کاغذوں تک ہے محدود

    مسلم گریجویٹ لڑکیوں کے لئے اعلان کی گئی شادی شگن اسکیم دو سال سے پلاننگ اسٹیج میں ہی ہے۔

    مسلم گریجویٹ لڑکیوں کے لئے اعلان کی گئی شادی شگن اسکیم دو سال سے پلاننگ اسٹیج میں ہی ہے۔

    مودی حکومت نے 18-2017 میں گریجویشن کرنے والی مسلم لڑکیوں کو شادی کےموقع پر51 ہزاردینے کی اسکیم کا اعلان دیوالی کے تحفہ کے طورپرکیا تھا، لیکن ابھی تک یہ پلاننگ اسٹیج میں ہی ہے۔

    • Share this:
      مودی حکومت کی طرف سے دو سال قبل مسلم لڑکیوں کو دیوالی کے تحفے کے طورپر شادی شگن اسکیم کا تحفہ دیا تھا، وہ آج بھی کاغذوں تک ہی محدود ہے۔ دوسرے الفاظ میں وزارت برائے اقلیتی امور کی اہم شادی شگن اسکیم دو سال بعد بھی زمین پرنہیں اترسکی ہے۔ آج تک اس اسکیم کے تحت کسی طالبہ کو کوئی پیسہ نہیں دیا گیا۔ اس بات کا اعتراف اقلیتی امورکے وزیرمختارعباس نقوی نے لوک سبھا میں پوچھےگئےتحریری سوال کے جواب میں کیا ہے۔

      دراصل اترپردیش کے فیض آباد لوک سبھا سیٹ سے رکن پارلیمنٹ للو سنگھ نے تحریری طورپر شادی شگن اسکیم کو لے کرسوال پو چھا تھا۔ رکن پارلیمنٹ نے پوچھا کہ کیا شادی شدہ مسلم لڑکیوں کو 51000 گریجویشن مکمل ہونے کے بعد دیئے جانے کی شادی شدہ شگن اسکیم حکومت نے منظورکیا ہے؟ اوراگرایسا ہے تواترپردیش میں اسکیم کے تحت کتنا فنڈ ریلیزکیا گیا ہے اوراس فنڈ کی تفصیل کیا ہے اوراگرایسا نہیں ہوا ہے تواس کے پیچھے کیا وجہ ہے؟

      مرکزی وزیر مختارعباس نقوی کی طرف سے جواب دیا گیا کہ مولانا آزاد ایجوکیشن فاونڈیشن نے سال 18-2017 میں شادی شگن اسکیم کو لے کرمنصوبہ بندی کی تھی۔ اسکیم کے تحت وزارت کی اسکالرشپ اسکیم بیگم حضرت محل اسکالرشپ کے تحت تعلیم حاصل کرنے والی بیٹیوں کو گریجویشن کی تعلیم مکمل ہونے پر51 ہزارروپئے دیئے جائیں گے۔ اترپردیش میں فنڈ ریلیزہونےکولےکرپوچھےگئے سوال کے جواب میں وزارت کی طرف سے واضح کردیا گیا ہے کہ اب تک کوئی فنڈ ریلیز نہیں ہوا ہے جبکہ تفصیل مانگنے کے سوال پرکہا گیا ہے کہ ایسی کوئی تفصیل نہیں ہے۔
      First published: