ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

شاہین باغ میں لنگر چلانے کے لئے فلیٹ فروخت کرنے کے سوال پر ڈی ایس بندرا نے کہی یہ بڑی بات

این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ میں جاری خواتین کے مظاہرہ سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ایڈوکیٹ ڈی ایس بندرا نے اس وقت تک لوگوں کے لئے لنگر چلانے کا عزم کیا ہے جب تک شاہین باغ میں خواتین کا مظاہرہ جاری رہے گا۔

  • UNI
  • Last Updated: Feb 10, 2020 12:26 PM IST
  • Share this:
شاہین باغ میں لنگر چلانے کے لئے فلیٹ فروخت کرنے کے سوال پر ڈی ایس بندرا نے کہی یہ بڑی بات
این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ میں جاری خواتین کے مظاہرہ سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ایڈوکیٹ ڈی ایس بندرا نے اس وقت تک لوگوں کے لئے لنگر چلانے کا عزم کیا ہے جب تک شاہین باغ میں خواتین کا مظاہرہ جاری رہے گا۔

نئی دہلی۔ قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ میں جاری خواتین کے مظاہرہ سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ایڈوکیٹ ڈی ایس بندرا نے اس وقت تک لوگوں کے لئے لنگر چلانے کا عزم کیا ہے جب تک شاہین باغ میں خواتین کا مظاہرہ جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے لنگر میں صرف کوئی ایک چیز نہیں بنتی ہے۔ ہر روز الگ الگ طریقے کے کھانے اور دوسری چیزیں بنتی ہیں۔ کبھی راجما چاول، تو کبھی پاؤ بھاجی تو کبھی دہی بھلے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر روز الگ الگ مینو ہوتا ہے۔


انہوں نے کہا کہ یہ لنگر شاہین باغ کی شاہینوں کے لئے تھوڑا سا تعاون ہے اور ضرورت پڑے گی تو اس میں اضافہ کیا جائے گا۔ یہ پوچھے جانے پر کہ یہ لنگر کب تک چلے گا، انہوں نے کہا کہ جب تک یہ دھرنا چلے گا اس وقت تک یہ لنگر جاری رہے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ سکھ مذہب کی روایت کے مطابق ایک بار جو لنگر شروع ہوتا ہے تو ختم نہیں ہوتا، رکتا نہیں ہے اور ہم مستقل چلاتے رہیں گے۔


شاہین باغ میں سکھ کمیونٹی کی طرف سے لنگر چلایا جا رہا ہے


لنگر کے اخراجات کے بارے میں یو این آئی اردو سروس کے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔ دینے والا اوپر والا ہے ہم صرف ذریعہ بنتے ہیں۔ میڈیا میں آئے فلیٹ فروخت کرنے کے سوال کے جواب میں انہوں نے اسے ٹالتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی اہم بات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ ہر آدمی فنڈنگ کے بارے میں سوال کرتا ہے، کوئی کہہ رہا ہے بریانی کہاں سے آرہی ہے، تو پیسہ کہاں سے آرہا ہے، جذبہ ہونا چاہئے، جذبہ ہے تو پھر کسی چیز کی فکر نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ لنگر جاری رہنا چاہئے اور ہمیں یہاں خاتون مظاہرین کی نہ صرف حوصلہ افزائی کرنی چاہئے بلکہ جس کی ضرورت ہو پوری کرنی چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ ہر کوئی یہ سوال پوچھتا ہے کہ اس کے لئے فنڈ کہاں سے آتا ہے تو میں انہیں کہنا چاہتا ہوں کہ کھلانے والا اوپر والا ہے اور جب آپ نیک کام کرتے ہیں تو پھر فنڈ کا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا ہے اور گھر والے بھی تعاون کرتے ہیں اور ساتھ دیتے ہیں۔ پیشے سے وکیل بندرا نے کہا کہ سکھوں کی روایات رہی ہے اورجہاں ضرورت ہوتی ہے وہاں انہوں نے لنگر لگائے ہیں، یہاں تک کہ برما اور شام میں بھی لنگر لگائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی روایات کو آگے بڑھاتے ہوئے ہم نے مسلم بہنوں کے لئے لنگر کا انتظام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خواتین ہمارے لئے سڑکوں پر اتری ہیں اور رات و دن کا دھرنا دے رہی ہیں کیا ہم لوگ یہ بھی نہیں کرسکتے۔ واضح رہے کہ سکھ بھائیوں کا جتھا مسلسل شاہین باغ آرہا ہے اور وہ لوگ لنگر کے ساتھ آتے ہیں۔ گزشتہ روز ہی ان کا جتھا شاہین باغ سے گیا ہے۔
First published: Feb 10, 2020 12:26 PM IST