ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

شاہین باغ کے دھرنے میں شامل ہو رہے ہیں میرٹھ کے مظاہرین

شاہین باغ کے دھرنے میں شامل ہونے والے میرٹھ کے مظاہرین کا ماننا ہے کہ شاہین باغ اس تحریک کے لیے ایک مثال بن گیا ہے۔

  • Share this:
شاہین باغ کے دھرنے میں شامل ہو رہے ہیں میرٹھ کے مظاہرین
شاہین باغ کے دھرنے میں میرٹھ کی نمائندگی

میرٹھ ۔ سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی کے شاہین باغ میں خواتین کا احتجاجی دھرنا گزشتہ 54 دنوں سے جاری ہے۔ لیکن یہاں کی مقامی خواتین کی قیادت میں شروع ہوئے اس احتجاجی دھرنے کے ساتھ لوگوں کے جڑنے کا جو سلسلہ بعد میں شروع ہوا وہ مسلسل جاری ہے۔ دور دراز کے شہروں کے علاوہ خاص طور پر دہلی اور این سی آر علاقے سے لوگ شاہین باغ پہنچ کر احتجاج میں شامل ہو رہے ہیں۔


دہلی کے شاہین باغ میں خواتین کا احتجاجی دھرنا اب ایک تحریک کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ شروعات میں اس احتجاجی دھرنے کو مسلم خواتین کے احتجاجی مظاہروں سے منسوب کر کے دیکھنے کی کوشش کی گئی لیکن دھیرے دھیرے غیر مقامی اور  مختلف مذاہب و ملّت کے افراد کے یہاں پہنچ کر دھرنے کی حمایت کرنے سے یہ احتجاج مخصوص طبقے کے مظاہرے کے دائرے سے باہر نکل کر ایک تحریک کی شکل اختیار کرتا نظر آ رہا ہے۔


شاہین باغ کے دھرنے میں شامل ہو رہے ہیں میرٹھ کے مظاہرین


این سی آر کے دوسرے شہروں کی طرح میرٹھ سے بھی لوگوں کے شاہین باغ پہنچ کر دھرنے میں شامل ہونے اور اس کی حمایت  کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ شاہین باغ کے دھرنے میں شامل ہونے والے میرٹھ کے مظاہرین کا ماننا ہے کہ شاہین باغ اس تحریک کے لیے ایک مثال بن گیا ہے۔ اس احتجاجی دھرنے کی خاصیت ہے کہ اسے کوئی سیاسی پارٹی کے لیڈر کی قیادت نہیں بلکہ مقامی خواتین کی قیادت حاصل ہے اور بغیر تفریق مذہب و ملت لوگ اس میں شامل ہو کر ان خواتین کی حمایت اور حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ شاہین باغ کی دلیر خواتین کی وجہ سے ہی آج این آر سی جیسے مدعے پر حکومت کو اپنی صفائی دینی پڑ رہی ہے اور کہنا پڑ رہا ہے کہ ابھی اس معاملے میں کسی طرح کی کوئی پیش رفت نہیں کی جا رہی ہے۔
First published: Feb 08, 2020 06:27 PM IST