ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

این آرسی کبھی نہیں نافذہوگا، حکومت آئینی طریقے سےکرائے یقین دہانی: شاہین باغ مظاہرین

احتجاجی مظاہرہ میں شامل ایک خاتون نےکہاکہ اگر این آرسی کو لےکر کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے تو قوم کےنام ایک پیغام جاری کیا جانا چاہئےکہ ہم این آرسی کو منسوخ کر رہے ہیں۔ حکومت کی اس بات پرکیسے بھروسہ کیا جائےکیونکہ آسام میں خواتین برے حالات دیکھ چکی ہیں۔

  • Share this:
این آرسی کبھی نہیں نافذہوگا، حکومت آئینی طریقے سےکرائے یقین دہانی: شاہین باغ مظاہرین
شاہین باغ کے مظاہرین نے کہا کہ این آرسی کبھی نہیں نافذہوگا، حکومت آئینی طریقے سےکرائے یقین دہانی۔

نئی دہلی: مرکزی حکومت کے ذریعہ لوک سبھا میں تحریری طور پرپورے ملک میں این آرسی کو لےکر دی گئی صفائی اور این آر سی پر ابھی فیصلہ نہ لئےجانےکی بات کو شاہین باغ کے مظاہرین نے مسترد کردیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہےکہ حکومت نے جو جواب دیا ہے، اس میں واضح ہےکہ آگے اس کا این آرسی نافذ کرنےکا ارادہ ہے، وہ بعد میں این آرسی نافذکرنا چاہتی ہے، اس لئےان کا احتجاج ابھی رکنے والا نہیں ہے۔ مظاہرین نےکہا کہ انہیں حکومت کی بات پر بھروسہ نہیں کیونکہ وزیر داخلہ امت شاہ نے پارلیمنٹ میں ہی کہا تھا کہ این آرسی ملک میں نافذ ہوکر رہےگا۔ احتجاج میں شامل اور شاہین باغ احتجاج کے رضا کارشاہنواز نےکہا کہ حکومت اب تک جھوٹ بولتی رہی ہے، اس لئے جب تک حکومت یہ نہیں کہتی کہ ابھی نہیں بلکہ کبھی بھی این آرسی نافذ کرنےکا منصوبہ نہیں ہے، تب تک ان کا احتجاج جاری رہےگا۔


مظاہرین نےکہا کہ انہیں حکومت کی بات پر بھروسہ نہیں کیونکہ وزیر داخلہ امت شاہ نے پارلیمنٹ میں ہی کہا تھا کہ این آرسی ملک میں نافذ ہوکر رہےگا۔
مظاہرین نےکہا کہ انہیں حکومت کی بات پر بھروسہ نہیں کیونکہ وزیر داخلہ امت شاہ نے پارلیمنٹ میں ہی کہا تھا کہ این آرسی ملک میں نافذ ہوکر رہےگا۔


احتجاجی مظاہرہ میں شامل ایک خاتون نےکہا کہ اگر این آرسی کو لےکر کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے تو قوم کے نام ایک پیغام جاری کیا جانا چاہئےکہ ہم این آرسی کو منسوخ کر رہے ہیں۔ حکومت کی اس بات پرکیسے بھروسہ کیا جائے کیونکہ آسام میں خواتین برے حالات دیکھ چکی ہیں۔ بچوں کو بدتر زندگی گزارنا پڑ رہا ہے، ہم نے اشرف علی کی مثال دیکھی ہے، جن کو دو سال کے بعد سپریم کورٹ نے راحت دیتے ہوئےکہا کہ آپ ملک کے باعزت شہری ہیں، ہم چاہتے ہیں ایک آئینی طریقے سے ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی یا پھر وزیرداخلہ امت شاہ قوم کے نام پیغام دیں کہ این آر سی اور شہریت قانون منسوخ کیا جارہا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ہم اپنا احتجاج ختم کردیں گے۔ کئی خواتین نےکہا کہ 8 فروری کو جو احتجاج ختم کرنےکی بات کی جارہی ہے، اگر حکومت 8 فروری تک ہمارے مطالبات تسلیم کرلیتی ہے تو ہم احتجاج ختم کردیں گے۔


کئی خواتین نےکہا کہ اگر حکومت 8 فروری تک ہمارے مطالبات تسلیم کرلیتی ہے تو ہم احتجاج ختم کردیں گے۔
کئی خواتین نےکہا کہ اگر حکومت 8 فروری تک ہمارے مطالبات تسلیم کرلیتی ہے تو ہم احتجاج ختم کردیں گے۔


قابل ذکر ہےکہ مرکزی حکومت کی طرف سے لوک سبھا میں وزیر مملک برائے داخلہ امور نتیانند رائےنےاین آرسی سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے تحریری جواب دیا کہ حکومت کی طرف سے این آر سی پورے ملک میں نافذ کرنےکو لے کراب تک کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔ دراصل تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) کے رکن پارلیمنٹ راما ناگیشور راؤ کی طرف سے وزارت داخلہ سے این آرسی سے متعلق سوال پوچھا گیا تھا، جس کا جواب دیتے ہوئے حکومت کی طرف سے کہا گیا تھا کہ حکومت ابھی این آر سی پورے ملک میں نافذ کرنے کو لےکر کسی فیصلہ پرنہیں پہنچی ہے۔ کل ملاکر کہا جاسکتا ہےکہ حکومت کی وضاحت کے بعد بھی حکومت کے جواب میں ابھی اور ابھی تک لفظ کا استعمال تعطل ختم کرنے میں رکاوٹ بن گیا ہے۔
First published: Feb 05, 2020 10:40 PM IST