ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ٹائمز میگزین کی فہرست میں نام آنے کے بعد شاہین باغ کی دادی نے کہی یہ بڑی بات، بولیں بچوں پر ظلم ہوتا نہیں سہ سکتی

82 سال کی بلقیس نے کہا وزیر اعظم مودی ان کے بیٹے ہیں، شہریت ترمیمی قانون واپس لیا جانا چاہیے۔ دادی کا کہنا ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بچوں کی پٹائی کے بعد احتجاج کی شروعات ہوئی تھی۔ میں بچوں کے اوپر ہوتے اس ظلم کو نہیں سہ سکتی۔

  • Share this:
ٹائمز میگزین کی فہرست میں نام آنے کے بعد شاہین باغ کی دادی نے کہی یہ بڑی بات، بولیں بچوں پر ظلم ہوتا نہیں سہ سکتی
شاہین باغ کی دادی۔۔

دنیا کی مشہور ٹائمز میگزین نے دنیا کے 100 با اثر افراد کی فہرست جاری کی ہے۔ اس فہرست میں وزیر اعظم مودی سے لے کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تک کے نام شامل ہیں لیکن سب سے حیران کن نام شاہین باغ کی دادی بلقیس  کا ہے جو اس فہرست میں شامل ہے۔ 82 سالہ بلقیس کو شہریت ترمیمی قانون اور این پی آر ، این آر سی کے خلاف احتجاج میں خواتین کی رہنمائی شاہین باغ کی آواز بننے کے لئے شامل کیا گیا ہے۔

بلقیس (، 82) ، اترپردیش کے ہاپوڑ ضلع کے کرانا گاؤں سے تعلق رکھتی ہیں، اپنے شوہر کی وفات کے بعد وہ گزشتہ ایک دہائی سے اپنے پانچ بیٹوں کے ساتھ دہلی میں رہائش پذیر ہیں۔ بلقیس دادی نے نہ تو اسکول کی تعلیم حاصل کی ہے اور نہ ہی کوئی دوسری تعلیم، وہ صرف قرآن پڑھنا جانتی ہیں۔ بلقیس (bilkis dadi) دادی کا کہنا ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بچوں کی پٹائی کے بعد احتجاج کی شروعات ہوئی تھی، پہلے خواتین کم تعداد میں پہنچی تھیں اور بعد میں خواتین کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔

بلقیس بتاتی ہیں کہ وہ صبح 8 بجے سے رات 12 بجے تک احتجاج میں رہتی تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ خواتین اور احتجاج کرنے والوں پر گولیاں چلائی گئیں برقع پہنا کر خواتین کو ہمارے درمیان بھیجا گیا، میں نے اس وقت پولیس اہلکاروں سے کہا کہ اگر ہمارے بچوں نے گولی چلائی تو وہ مار دیے جائیں گے۔

دادی کا کہنا ہے کہ پہلے کوروناوائرس سے لڑائی لڑنی ہے اور اس کے بعد سی اے اے کے خلاف لڑائی لڑنی ہوگی۔ وہ ایک بار پھر احتجاج کرنے اور بچوں کے ساتھ بیٹھنے کے لئے تیار ہیں۔ بلقیس دادی وزیر اعظم مودی کے بارے میں کہتی ہیں، وہ بھی ان کے بیٹے ہیں۔ چاہے وہ ان کی کوکھ سے پیدا نہیں ہوئے ہیں۔ دادی کا کہنا ہے کہ سی اے اے کو واپس لے لیا جائے۔


بلقیس دادی کے بیٹے منظور احمد بتاتے ہیں کہ جب وہ پہلی بار احتجاج میں گئی تھیں تو گھر میں کسی کو بتائے بغیر گئیں۔ ان کی تلاش کی گئی بعد میں جب وہ گھر واپس آئیں تو انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ مظاہرے میں تھیں۔ گھر والوں کی جانب سے اور متعدد بار ہم نے ان کی عمر اور صحت کی وجہ سے انہیں احتجاج میں جانے سے منع کیا تھا لیکن انہوں نے یہ بات نہیں مانی۔ کئی بار ان کی طبیعت خراب ہوگئی لہٰذا سردیوں میں جب ان کی طبیعت خراب تھی تو ان کو ایک دن چھوڑ کر دوسرے دن شاہین باغ کے مظاہرے میں لے جایا جاتا تھا لیکن جبکہ طبیعت ٹھیک ہوتی تو وہ روزانہ جاتی تھیں۔
Published by: sana Naeem
First published: Sep 25, 2020 02:53 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading