உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ملک میں عدم برداشت کی فضا ہوتی تو شاہ رخ 'كنگ خان' نہیں ہوتے: بی جے پی

    نئی دہلی۔ ان دنوں ملک میں بڑھتے فرقہ وارانہ واقعات اور عدم برداشت کے ماحول پربیانات کا سلسلہ جاری ہے۔

    نئی دہلی۔ ان دنوں ملک میں بڑھتے فرقہ وارانہ واقعات اور عدم برداشت کے ماحول پربیانات کا سلسلہ جاری ہے۔

    نئی دہلی۔ ان دنوں ملک میں بڑھتے فرقہ وارانہ واقعات اور عدم برداشت کے ماحول پربیانات کا سلسلہ جاری ہے۔

    • IBN7
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔ ان دنوں ملک میں بڑھتے فرقہ وارانہ واقعات اور عدم برداشت کے ماحول پربیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک طرف جہاں مصنفین اوردانشوران اس معاملے پر اپنا ایوارڈ لوٹا رہے ہیں وہیں بالی ووڈ کے کنگ خان یعنی شاہ رخ خان نے بھی اس مسئلے پر اپنی رائے ظاہر کی تھی جس کی بی جے پی نے مذمت کی ہے۔


      شاہ رخ نے اپنی سالگرہ کے موقع پر ایک پروگرام کے دوران کہا کہ ملک میں بہت زیادہ عدم برداشت بڑھ رہی ہے اور لوگ بغیر سوچے سمجھے کچھ بھی بول رہے ہیں۔ شاہ رخ کے اس بیان کی بی جے پی نے مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ملک میں عدم برداشت ہوتی تو آج ان کے لاکھوں مداح نہیں ہوتے۔


      بی جے پی کے جنرل سکریٹری مرلی دھر راؤ نے شاہ رخ کے بیان کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ملک میں عدم برداشت ہوتی تو آج انہیں اپنے لاکھوں مداحوں کا پیار نہیں ملتا جس کی بدولت وہ بالی ووڈ کے کنگ خان ہیں۔


      بتا دیں کہ شاہ رخ نے کہا تھا کہ ملک میں بہت ہی زیادہ عدم برداشت ہے۔ جب شاہ رخ سے سوال پوچھا گیا کہ کیا وہ بھی اور لوگوں کی طرح اپنا ایوارڈ واپس کر سکتے ہیں تو اس پر شاہ رخ نے کہا کہ ہاں میں علامتی طور پر اپنا ایوارڈ چھوڑ سکتا ہوں۔

      First published: