ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مجلس مشاورت کو بچانے اور مفاہمت کی کوششیں تیزکرنے کے لئے آگے آئیں ملی تنظیمیں: جنرل سکریٹری شیخ منظورکی اپیل

جنرل سکریٹری شیخ منظورنے جماعت اسلامی اورجمعیت اہلحدیث کے سینئرممبروں سے درخواست کی کہ وہ حالات کو دیکھتے ہوئے اس مفاہمت کی کوشش کو تیز کریں۔

  • UNI
  • Last Updated: Oct 17, 2018 09:19 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
مجلس مشاورت کو بچانے اور مفاہمت کی کوششیں تیزکرنے کے لئے آگے آئیں ملی تنظیمیں: جنرل سکریٹری شیخ منظورکی اپیل
مجلس مشاورت میں جاری تنازعہ کو ختم کرنے کی اپیل۔

نئی دہلی: آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے جنرل سکریٹری شیخ منظور احمد نے مسلم تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ ایسے وقت میں جب کہ ملک میں اقلیتیں اور بالخصوص مسلمان سنگین خطرات اور مسائل سے دوچارہیں اورفرقہ پرست طاقتیں مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کی مذموم کوششیں کررہی ہیں، مسلم رہنماوں کو اس صورت حال سے نکلنے کے لئے سنجیدہ اقدامات کرنا چاہئے۔


شیخ منظوراحمد نے آج یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ ملک ایک مشکل دور سے گزر ہاہے،اقلیتوں خاص کر مسلمانو ں کو سنگین خطرات اور چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایک طرف فرقہ پرست طاقتیں مسلمانوں کو نیست ونابو کرنے کی مذموم کوشش کررہی ہیں تو دوسری طرف مسلم تنظیمیں یاتو فالج کا شکار ہیں، یا آپسی جھگڑوں میں ملوث ہیں اوراس صورتحال سے نکلنے کے لئے کوئی بھی سنجیدہ قدم نہیں اٹھا یا جا رہا ہے۔


انہوں نے کہا کہ آنے والا وقت مسلم قیادت کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ دیکھنا یہ ہے کہ وہ 22کروڑ سے زیادہ مسلمانوں کوجو عدم تحفظ اور لاچاری سے دوچارہیں ، اس کو دلدل سے کیسے نکالے گی ۔


انہوں نے کہا کہ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت ایک فعال تنظیم اورپانچ دہائیوں سے زیادہ مدت کے دوران ملت کے لئے نما یا ں خدمات انجام دے چکی ہے، لیکن بدقسمتی سے کم وبیش ایک سا ل سے یہ تنظیم آپسی جھگڑے کا شکار ہوگئی اور معاملہ یہی نہیں تھما بلکہ عدالت تک بھی پہنچ گیا، جس سے یہ تنظیم تقریباً مفلوج ہوگئی ہے۔ انتخابات کے عمل پر کچھ سینئر رہنما ناراض ہوگئے اور جب الیکشن کاعمل آخری مرحلوں میں تھا تو کچھ ممبران نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا یا اور حکم امتناعی حاصل کیا ۔
شیخ منظور احمد نے کہا کہ میں ان حالات کے لئے کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہراتا ہوں۔ یہ فیصلہ ممبران خود ہی کریں گے، لیکن مجھے سب سے بڑا دکھ یہ ہے کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے علمائے دین اور مختلف ملی وسوشل تنظیموں کے رہنماؤں نے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ میری ان سے یہی التجا ہے کہ اس مسئلے کو مل بیٹھ کر حل کرنے کی کوشش کریں۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو یہ تنظیم بھی عدالت کی نذر ہوجائے گی۔

انہوں نے جماعت اسلامی، جمعیت اہلحدیث، مسلم لیگ اورسینئر ممبروں سے درخواست کی کہ وہ حالات کو دیکھتے ہوئے اس مفاہمت کی کوشش کو تیز کریں تا کہ مشاورت پھر سے متحرک ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں مشاورت کی مجوزہ میٹنگ میں شرکاء کوئی ایسی تجویز پیش کریں، جس سے اتحا د قائم ہوسکے اور تمام فریقین متحد ہوکراس عظیم تنظیم کو آگے لے جا سکیں اور اس کے بانیوں نے جو خواب دیکھا تھا اس کو پورا کرسکیں۔

یہ بھی پڑھیں:    صدرمسلم مجلس مشاورت نے آسام این آرسی کوفرقہ ورانہ گروہ بندی کی سازش قراردیا

یہ بھی پڑھیں:     جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار کو ختم کرنے کی کوشش قابل مذمت : مسلم مجلس مشاورت

یہ بھی پڑھیں:    یکساں سول کوڈ سے متعلق مولانا ولی رحمانی کا بیان افسوس ناک: بنگال مسلم مجلس مشاورت
First published: Oct 17, 2018 09:19 PM IST