உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شرجیل امام کو ملی ضمانت، Allahabad High Court نے کہا، تقریر میں نہیں ملی کوئی قابل اعتراض بات

    الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ تقریر کی بنیاد پر شرجیل امام کو ضمانت دینے سے نہیں روکا جا سکتا

    الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ تقریر کی بنیاد پر شرجیل امام کو ضمانت دینے سے نہیں روکا جا سکتا

    الہ آباد ہائی کورٹ نے ضمانت کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شرجیل امام نے نہ تو ملک سے بغاوت کرنے کی بات کہی ہے اور نہ ہی لوگوں کو تشدد بھڑکانے لیے اکسایا ہے ۔

    • Share this:
    الہ آباد ۔ سی اے اے مخالف تحریک کے دوران گرفتار کئے گئے شرجیل امام (Sharjeel Imam) کو الہ آباد ہائی کورٹ  Allahabad High Court  سے ضمانت bail مل گئی ہے ۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے ضمانت کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شرجیل امام نے نہ تو ملک سے بغاوت کرنے کی بات کہی ہے اور نہ ہی لوگوں کو تشدد بھڑکانے لیے اکسایا ہے ۔ عدالت نے شرجیل امام کو پچاس پچاس ہزار کی ضمانتوں پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے ۔ جسٹس سومتر دیال سنگھ کی بنچ نے معاملے کی سماعت کے بعد شرجیل امام کی طرف سے داخل ضمانت عرضی منظور کر لی ہے ۔ شرجیل کو امام کو ١٦، جنوری سن ۲۰۲۰ کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں منعقد ہونے والے سی اے اے مخالف احتجاجی جلسے میں کی گئی تقریر کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا تھا ۔

    علی گڑھ پولیس نے شرجیل امام پر ملک سے بغاوت کرنے اور لوگوں کو تشدد کے لیے اکسانے کا الزام لگایا تھا ۔ ذیلی عدالت میں شرجیل امام کی ضمانت عرضی خارج ہونے کے بعد الہ آباد ہائی کورٹ میں ضمانت عرضی داخل کی گئی تھی ۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ شرجیل امام پر پولیس کی طرف سے جو سنگین دفعات لگائی گئی ہیں وہ قانون اور شواہد کی بنیاد پر عدالت میں ثابت نہیں ہو پائیں ۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ شرجیل امام کی تقریر میں ایسی کوئی غیر قانونی بات نہیں ثابت ہوئی جس کی بنیاد پر شرجیل امام کی ضمانت روکی جائے۔

    الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ تقریر کی بنیاد پر شرجیل امام کو ضمانت دینے سے نہیں روکا جا سکتا
    الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ تقریر کی بنیاد پر شرجیل امام کو ضمانت دینے سے نہیں روکا جا سکتا


    شرجیل امام کے معاملے کو قریب سے دیکھنے والے الہ آباد ہائی کورٹ کے ایڈوکیٹ سید احمد نسیم کا کہنا ہے کہ شرجیل امام نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے احتجاجی جلسے میں شمال مشرقی ریاستوں کے بارے میں جو بات کہی تھی وہ صرف ایک سیاسی موقف تھا ۔ احمد نسیم کا کہنا ہے کہ شرجیل امام کا معاملہ قانونی نہ ہوکر سیاسی نوعیت کا ہے اور اس کو اسی پس منظر میں دیکھنا چاہئے ۔
    واضح رہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ سے شریجل امام کو ضمانت ملنے کے با وجود فی الحال تہاڑ جیل سے ان کی رہائی ابھی نہیں ہو پائی گی ۔ شرجیل امام کے خلاف دہلی سمیت ملک کی کئی ریاستوں میں مقدمات درج ہیں ۔شرجیل امام کو اپنی رہائی کے لئے ابھی مذید قانونی لڑائی لڑنی پڑے گی ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: