உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مشہور اداکارہ شرمیلا ٹیگور کی مودی سرکار پر تنقید ، ایوارڈ واپسی کو جرات مندانہ قدم قرار دیا

    نئی دہلی : ملک میں بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ تشدد اور اظہار رائے کی آزادی کو لاحق خطرات کی وجہ سے ادیبوں اور مصنفوں کے ذریعہ ایوارڈ لوٹائے جانے کی وجہ سے چوطرفہ تنقید جھیل رہی مودی حکومت کے خلاف اب مشہور اداکارہ شرمیلا ٹیگور بھی میدان میں آگئی ہیں

    نئی دہلی : ملک میں بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ تشدد اور اظہار رائے کی آزادی کو لاحق خطرات کی وجہ سے ادیبوں اور مصنفوں کے ذریعہ ایوارڈ لوٹائے جانے کی وجہ سے چوطرفہ تنقید جھیل رہی مودی حکومت کے خلاف اب مشہور اداکارہ شرمیلا ٹیگور بھی میدان میں آگئی ہیں

    نئی دہلی : ملک میں بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ تشدد اور اظہار رائے کی آزادی کو لاحق خطرات کی وجہ سے ادیبوں اور مصنفوں کے ذریعہ ایوارڈ لوٹائے جانے کی وجہ سے چوطرفہ تنقید جھیل رہی مودی حکومت کے خلاف اب مشہور اداکارہ شرمیلا ٹیگور بھی میدان میں آگئی ہیں

    • PTI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی : ملک میں بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ تشدد اور اظہار رائے کی آزادی کو لاحق خطرات کی وجہ سے ادیبوں اور مصنفوں کے ذریعہ ایوارڈ لوٹائے جانے کی وجہ سے چوطرفہ تنقید جھیل رہی مودی حکومت کے خلاف اب مشہور اداکارہ شرمیلا ٹیگور بھی میدان میں آگئی ہیں۔ انہوں نے ایوارڈ واپسی کی سراہنا کرتے ہوئے اس کو جرات مندانہ قدم قرار دیا ہے ۔


      نیشنل ایوارڈ جیتنے والی 68 سالہ مشہور اداکارہ نے ایک پروگرام میں کہا کہ کچھ طاقتیں جدیدیت کو مات دینے کیلئے سر اٹھارہی ہیں اور موجودہ وقت ملک کیلئے چیلنج بھرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس کو پابندی اور اظہار رائے کی آزادی پر حملہ کی شکل میں دیکھتے ہیں ۔


      مصنفوں اور ادیبوں کے ذریعہ ایوارڈ لوٹائے جانے کو ایک جرات مندانہ قدم قرار دیتے ہوئے شرمیلا نے کہا کہ فی الحال اس ملک میں مخالفت تشدد کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے اور عدم موافقت کا معاملہ اب صرف زبان تک محدود نہیں رہ گیا ہے۔ لوگ اس کی وجہ سے پرتشدد حملے کررہے ہیں۔ تاہم یہ اچھی بات ہے کہ اس کے خلاف لوگ کھڑے بھی ہورہے ہیں ۔ میں محسوس کرتی ہوں کہ یہ بے حد فطری رد عمل ہے۔ خیال رہے کہ شرمیلا ٹیگور سے ادیبوں کے ذریعہ ایوارڈ لوٹانے سے متعلق سوال پوچھا گیا تھا۔


      امرپریم کی اسٹار اداکارہ نے کہا کہ یہ میری ذاتی رائے ہے کہ مصنفوں کے ذریعہ مخالفت میں ایوارڈ واپس کرنا ایک فطری ردعمل ہے۔ جس نے بھی اس کی شروعات کی ، اس سے ایک تحریک سامنے آئی۔ انہوں نے بابری مسجد کی شہادت اور ایمرجنسی کے وقت کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ اس وقت کو یاد کیجئے کہ اس وقت کیا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم لوگوں کو اس بات پر غور کرناچاہئے کہ یہ ہمارے ملک کیلئے ایک سنگین خطرہ ہے۔


      شرمیلا ٹیگور نے دادری سانحہ کو انتہائی خوفناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ دادری میں جو کچھ ہوا وہ انتہائی خوفناک تھا ۔ حقیقت میں یہ تمام حدیں پارکرنے کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں سننا چاہتی ہوں کہ اس بے رحمانہ قتل کے مجرمین کو سزا ملی ہے ورنہ اس کا غلط پیغام جائے گا۔

      First published: