ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سونیا گاندھی پر بوجھ ڈالنا نامناسب، لوگوں کو امید کہ راہل گاندھی بدلیں گے فیصلہ: ششی تھرور

کانگریس لیڈرششی تھرور (Shashi Tharoor) نےکہا، 'جب راہل گاندھی نے استعفیٰ دیا تو انہوں نےخودواضح کردیا تھا کہ اب کوئی غیرگاندھی صدرہونا چاہئے اور ایسا ہوبھی سکتا ہے۔

  • Share this:
سونیا گاندھی پر بوجھ ڈالنا نامناسب، لوگوں کو امید کہ راہل گاندھی بدلیں گے فیصلہ: ششی تھرور
کانگریس لیڈرششی تھرور: فائل فوٹو

نئی دہلی: کانگریس لیڈر ششی تھرور نے راہل گاندھی پارٹی کےصدر عہدے پرممکنہ واپسی کا اشارہ دیتے ہوئےکہا کہ سونیا گاندھی پرکانگریس کو چلانے اور پارٹی کو دوبارہ مضبوط کرنےکی ذمہ داری دینا نا مناسب ہے۔ نیوز 18کو دیئے انٹرویو میں ششی تھرور نے بھی غیرگاندھی کے پارٹی صدر بننےکے امکانات کو مسترد کردیا اورکہا کہ خاندان کانگریس کارکنان کے دلوں میں 'اچھے اخلاق' کی وجہ سے 'خصوصی جگہ' رکھتا ہے۔


ششی تھرور نےکہا، 'مجھے نہیں لگتا کہ ہم 'غیرفعال' ہیں۔ راجستھان، پنجاب، مدھیہ پردیش، چتھیس گڑھ اور پڈوچیری میں پانچ مضبوط اور مؤثر حکومتیں ہیں، جو اپنے بہتر انتظامیہ کے ذریعہ ہرایک دن یہ دوہراتی ہیں کہ اگر مرکز میں کانگریس کی حکومت آگئی تو ہمارے منصوبےکیا ہیں۔ ششی تھرور نےکہا، ہم نے اپنےگزشتہ اختلافات کو بھی دورکیا ہے اور علاقائی جماعتوں کےساتھ عملی اتحاد بنایا ہے۔ اس کےنتیجےکےطورپر مہاراشٹر اور جھارکھنڈ میں اتحاد ہوا ہے، اچھا کام بھی کر رہے ہیں۔ ایسے میں ہماری موجودہ حالت کو غیرفعال بتا دینا غلط ہے۔


 کانگریس کی عبوری صدر سونیا گاندھی، کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی۔
کانگریس کی عبوری صدر سونیا گاندھی، کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی۔


سونیا گاندھی کی تقرری ایک عارضی قدم

کانگریس صدر سے متعلق سوال پر ششی تھرورنےکہا، 'سونیا گاندھی کی تقرری ایک عارضی قدم تھا اور ہم میں سے کئی لوگ مانتے ہیں کہ ان پر بوجھ ڈالنا مناسب نہیں ہے۔ ہم غیر معینہ مدت کےلئے ایک ایسے صدر پربوجھ نہیں بڑھا سکتے ہیں۔ میں مانتا ہوں کہ کئی لوگ سوچتے ہیں کہ وہ پارٹی کی قیادت کرنےکےلئے سب سے شاندار ہے۔ کیونکہ انہوں نے اتنے طویل وقت تک مؤثر طریقے سےکام کیا۔

ششی تھرور نےکہا، 'کانگریس میں اب بھی کئی لوگوں کو امید ہےکہ راہل گاندھی اپنا من بدلیں گے اور ایک بار پھرپارٹی کی قیادت سنبھالیں گے۔ ہمارا بھروسہ ہےکہ ان کے پاس پارٹی کو ایک ساتھ آگے لےجانے اور اس میں تبدیلی کرنےکی صلاحیت اور نظریہ ہے۔ اگر وہ دوبارہ اس عہدے پر آنے کےلئےتیار ہوتے ہیں تو یہ جتنی جلدی ہو اتنا اچھا، لیکن اگر وہ اپنے فیصلےکو لےکر اٹل ہیں تو ہمیں ایک سرگرم اورفعال اورکل وقتی قیادت کی تلاش کی ضرورت ہے تاکہ قوم کی امیدکے مطابق آگےبڑھ سکے'۔
First published: Mar 01, 2020 02:43 PM IST