உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    گڑگاؤں: شیوسینکوں کا ہنگامہ، پاکستانی فنکاروں کے پروگرام کو روکا، جھنڈا بھی ہٹا دیا

    گڑگاؤں۔ شیوسینا کی پاکستانی فنکاروں کی مخالفت مسلسل بڑھتی ہی جا رہی ہے۔

    گڑگاؤں۔ شیوسینا کی پاکستانی فنکاروں کی مخالفت مسلسل بڑھتی ہی جا رہی ہے۔

    • IBN7
    • Last Updated :
    • Share this:
      گڑگاؤں۔ شیوسینا کی پاکستانی فنکاروں کی مخالفت مسلسل بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ ہفتہ کو ان کے خلاف مزاحمت کا سلسلہ ممبئی سے نکل کر گڑگاؤں تک آ پہنچا۔ گڑگاؤں میں پاکستان مخالف نعرے لگاتے ہوئے شیوسینا کے مبینہ کارکنوں نے کچھ پاکستانی فنکاروں کے ایک ڈرامہ میں خلل پیدا کیا۔ شیوسینا کے کارکن ہونے کا دعوی کرتے ہوئے تقریبا پانچ چھ نوجوان گڑگاؤں کے ایک تھیٹر کے منچ کے اوپر چڑھ گئے، جہاں سات پاکستانی اداکاروں کا ایک گروپ 'بانجھ' نام کے ایک ناٹک کا منچن کر رہا تھا۔ اس مخالفت کے دوران شیو سینکوں نے پاکستان کے جھنڈے بھی نیچے گرا دئیے اور ہنگامہ کرنے لگے۔ پروگرام گڑگاؤں کے اوپن ایئر تھیٹر میں چل رہا تھا۔

      گڑگاؤں میونسپل میں تعلقات عامہ کے افسرستبير روہیلا نے بتایا کہ انہوں نے 'بھارت ماتا کی جے' اور 'پاکستان مردہ باد' جیسے نعرے لگائے اور قریب پانچ دس منٹ تک شو میں خلل ڈالا۔ پولیس فی الحال تحقیقات میں مصروف ہے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ احتجاج کے خدشہ کے پیش نظر پولیس کو پروگرام کی معلومات پہلے ہی دے دی گئی تھی، لیکن لوگوں کا کہنا ہے کہ پروگرام کے دوران پولیس موقع پر موجود نہیں تھی۔

      غور طلب ہے کہ کچھ دن پہلے انہوں نے ممبئی میں غزل گلوکار غلام علی کے کنسرٹ پروگرام کو منسوخ کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ اس سے پہلے شیو سینکوں نے ممبئی میں پی سی بی کے خلاف بی سی سی آئی کے دفتر میں گھس کر بھی ہنگامہ کیا تھا اور انہوں نے شہریار واپس جاؤ کے نعرے بھی لگائے تھے۔ شیوسینا کے کارکنوں نے پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کی کتاب کی مخالفت میں بی جے پی کے سابق رہنما اور ان کی کتاب کا اجرا کرنے والے سدھیندر کلکرنی کے چہرے پر بھی سیاہی پوت دی تھی۔ اس پر بھی خوب ہنگامہ ہوا تھا۔
      First published: