ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

وزیر اعلی کے عہدہ سے استعفی دیں گے اکھلیش یادو، ملائم سنگھ یادو نے 6 سال کے لئے پارٹی سے برطرف کیا

اترپردیش اسمبلی انتخابات سے عین قبل سماج وادی پارٹی میں جاری سیاسی گھمسان اب اپنے عروج پر پہنچ گئی اور قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہوگیا ہے۔

  • Pradesh18
  • Last Updated: Dec 30, 2016 07:13 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
وزیر اعلی کے عہدہ سے استعفی دیں گے اکھلیش یادو، ملائم سنگھ یادو نے 6 سال کے لئے پارٹی سے برطرف کیا
اترپردیش اسمبلی انتخابات سے عین قبل سماج وادی پارٹی میں جاری سیاسی گھمسان اب اپنے عروج پر پہنچ گئی اور قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہوگیا ہے۔

لکھنؤ: سماج وادی پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ نے اکھلیش یادو اور رام گوپال یادو کو پارٹی سے 6 سال کے لئے نکال دیا ہے۔ اس سے پہلے پارٹی کے صدر ملائم سنگھ یادو نے وزیر اعلی اکھلیش یادو کو وجہ بتاو نوٹس جاری کیا تھا۔ یہ نوٹس 2017 میں ہونے والے یوپی انتخابات کے لئے اکھلیش کی طرف سے الگ سے جاری کی گئی امیدواروں کی فہرست کو لے کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد ملائم نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ وزیر اعلی اکھلیش یادو اور رام گوپال یادو کو پارٹی سے 6 سال کے لئے نکال دیا گیا ہے۔ اب میں طے کروں گا کہ کون وزیر اعلی ہوگا ۔ اس دوران شیو پال یادو بھی ان کے ساتھ ہی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی گروپ بندی کر رہے ہیں۔ رام گوپال اکھلیش کا مستقبل برباد کر رہے ہیں۔

پریس کانفرنس میں ملائم نے کہا کہ 30 دسمبر 2016 کو رام گوپال یادو کو میں نے خط لکھا۔ انہوں نے پارٹی کا ہنگامی اجلاس یکم جنوری کو بلایا ہے۔ قومی صدر کے علاوہ کسی اور کو کانفرنس بلانے کا حق نہیں ہے۔ یہ نہ صرف ڈسپلن شکنی ہے، بلکہ اس سے پارٹی کو بھاری نقصان بھی پہنچا ہے۔ پارٹی کو کمزور کرنے کا کام کیا گیا ، اس لئے آپ کو تمام عہدوں اور رکنیت سے برطرف کیا جاتا ہے۔ رام گوپال کو چھ سال کے لئے پارٹی سے نکالا جاتا ہے۔

ملائم نے کہا کہ اکھلیش کو ڈسپلن شکنی کی وجہ سے پارٹی سے نکالا گیا ہے۔ رام گوپال یادو اکھلیش کا مستقبل برباد کر رہے ہیں اور اکھلیش ان کی چال سمجھ نہیں پا رہے۔ انہوں نے جان بوجھ کر ایسی صورتحال پیدا کی۔ انہوں نے پارٹی صدر پر حملہ کیا۔



ذرائع کی مانیں تو نوٹس دینے سے پہلے ہوئی میٹنگ میں شیو پال کے سامنے ملائم رو پڑے۔ کہا جس پارٹی کو اتنی محنت سے بنایا، اکھلیش اس کو تباہ کرنے پر آمادہ ہے ، لیکن میں اس کی من مانی نہیں چلنے دوں گا۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس اجلاس میں بینی پرساد ورما بھی موجود تھے۔

 

First published: Dec 30, 2016 01:37 PM IST