உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عشرت جہاں کیس کی جانچ میں شامل رہ چکے آئی پی ایس افسر ستیش ورما کو وجہ بتاو نوٹس

    نئی دہلی : عشرت جہاں کیس کی جانچ کرنے والی خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) کے رکن رہے سینئر آئی پی ایس افسر ستیش ورما پر مبینہ طور پر بے ضابطگی اور اجازت کے بغیر ڈیوٹی سے غائب رہنے کا الزام لگاتے ہوئے ان کو وجہ بتاو نوٹس جاری کیا گیا ہے

    نئی دہلی : عشرت جہاں کیس کی جانچ کرنے والی خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) کے رکن رہے سینئر آئی پی ایس افسر ستیش ورما پر مبینہ طور پر بے ضابطگی اور اجازت کے بغیر ڈیوٹی سے غائب رہنے کا الزام لگاتے ہوئے ان کو وجہ بتاو نوٹس جاری کیا گیا ہے

    نئی دہلی : عشرت جہاں کیس کی جانچ کرنے والی خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) کے رکن رہے سینئر آئی پی ایس افسر ستیش ورما پر مبینہ طور پر بے ضابطگی اور اجازت کے بغیر ڈیوٹی سے غائب رہنے کا الزام لگاتے ہوئے ان کو وجہ بتاو نوٹس جاری کیا گیا ہے

    • Agencies
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : عشرت جہاں کیس کی جانچ کرنے والی خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) کے رکن رہے سینئر آئی پی ایس افسر ستیش ورما پر مبینہ طور پر بے ضابطگی اور اجازت کے بغیر ڈیوٹی سے غائب رہنے کا الزام لگاتے ہوئے ان کو وجہ بتاو نوٹس جاری کیا گیا ہے ۔ ورما 1986 بیچ کے گجرات کیڈر کے آئی پی ایس افسر ہیں ، جو فی الحال شیلانگ میں واقع نارتھ ایسٹرن الیکٹریکل پاور کارپوریشن میں چیف ویجلنس افسر کے عہدہ پر مقرر ہیں۔

      سرکاری ذرائع کے مطابق ورما کے خلاف کارروائی این ای ای پی سی او نے کی ہے ، جو وزارت توانائی کے تحت آتا ہے ۔  آئی پی ایس افسران سے متعلق وزارت داخلہ کی اتھارٹی کو اس بابت میں اطلاع دے دی گئی ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ ورما پر ڈیوٹی سے غائب رہنے اور اجازت کے بغیر سفر کرنے کا الزام ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ یہ آل انڈیا سروس کے قوانین کی خلاف ورزی ہے ۔

      تاہم رابطہ کئے جانے پر ورما نے تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں مصروف ہوں اور میں کچھ تبصرہ نہیں کرنا چاہتا ۔ ذرائع کے مطابق افسر کو ان کے خلاف لگائے گئے الزامات کو لے کر ایک چارج میمو دیا گیا ہے ۔ خیال رہے کہ عشرت جہاں انکاؤنٹر کی تحقیقات کے لئے گجرات ہائی کورٹ کی طرف سے مقرر تین رکنی ایس آئی ٹی کا ورما حصہ تھے۔  انہوں نے دیگر دو ارکان سے الگ موقف اختیار کیا اور ہائی کورٹ میں حلف نامہ داخل کرکے کہا تھا کہ انکاؤنٹر منصوبہ بند قتل تھا ۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے عشرت کے لشکر طیبہ کا دہشت گرد ہونے پر بھی شک ظاہر کیا تھا۔

      حال ہی میں جب حلف نامے میں تبدیلی کو لے کر عشرت کا معاملہ خبروں میں آیا ، تب ورما کا میڈیا نے انٹرویو لیا ، جس میں انہوں نے اس دعوے سے اختلاف ظاہر کیا کہ ممبرا کے رہنی والی لڑکی دہشت گرد تھی ۔ انہوں نے یہ دعوی بھی کیا کہ انکاؤنٹر منصوبہ بند تھا ۔
      First published: