اپنا ضلع منتخب کریں۔

    آفتاب نے چائنیز چاقو سے کئے شردھا کی لاش کے ٹکڑے، جنگل میں پھینکا سر

    ملزم آفتاب پونا والا نے نارکو ٹیسٹ میں بتایا ہے کہ اس نے اپنی لیو ان پارٹنر شردھا واکر کی لاش کے ٹکڑے چینی چاقو سے کئے تھے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi, India
    • Share this:
      نئی دہلی. شردھا قتل کیس میں ایک چونکا دینے والی بات سامنے آئی ہے۔ ملزم آفتاب پونا والا نے نارکو ٹیسٹ میں بتایا ہے کہ اس نے اپنی لیو ان پارٹنر شردھا واکر کی لاش کے ٹکڑے چینی چاقو سے کئے تھے۔ اس کے بعد اس نے یہ چاقو گروگرام میں اپنے دفتر کے قریب جھاڑیوں میں پھینک دیا تھا۔ اس نے بتایا کہ اس نے شردھا کا سر مہرولی کے جنگلوں میں پھینک دیا تھا۔ ملزم نے شردھا کا فون ممبئی میں سمندر میں پھینک دیا تھا۔ یہ موبائل ابھی تک پولیس کو نہیں ملا ہے۔

      معلومات کے مطابق فارنسک سائنس لیب (ایف ایس ایل) کی ٹیم نے نارکو ٹیسٹ کے بعد اس کا دوبارہ انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو 2 گھنٹے تک جاری رہا۔ ایف ایس ایل کی ٹیم پہلے آفتاب کو اپنے دفتر بلانے جارہی تھی لیکن اس کی سکیورٹی کے پیش نظر تہاڑ جیل میں ٹیسٹ کیا گیا۔ دوسری جانب شردھا کی ڈی این اے رپورٹ بھی ایک ہفتے میں آسکتی ہے۔
      شردھا کا سر نہیں ملا
      آپ کو بتا دیں پولیس کو ابھی تک شردھا والکر کا سر نہیں ملا ہے۔ پولیس اس کے سر کے ساتھ ساتھ جسم کے کئی حصوں کی تلاش کر رہی ہے۔ پولیس نے آفتاب کی نشاندہی پر 13 ہڈیاں برآمد کر لی ہیں۔ ملزم کے گھر کے کچن، بیڈ روم اور باتھ روم سے ملے خون کے دھبے جانچ کے لیے بھیج دیے گئے ہیں۔




      شردھا کے والد نے پولیس سے شکایت کی تھی۔
      قابل ذکر بات یہ ہے کہ شردھا قتل کیس 6 ماہ پرانا ہے۔ پولیس اس معاملے پر اس وقت ایکشن میں آئیں جب شردھا کے والد نے پولیس اسٹیشن میں گمشدگی کی شکایت درج کرائی۔ پولیس نے ان کی شکایت پر 10 نومبر کو ایف آئی آر درج کی تھی۔ جس کے بعد پولیس نے ملزم آفتاب کو گرفتار کر لیا۔ آفتاب اور شردھا کی ملاقات ایک ڈیٹنگ ویب سائٹ پر ہوئی اور اس کے بعد دونوں دہلی کے چھتر پور میں کرائے کے فلیٹ میں رہنے لگے تھے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: