ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سرحدی تنازعہ پر پارلیمنٹ میں وزارت خارجہ کا جواب: اپریل۔ مئی کے بعد چین نے کئی بار کی دراندازی کی کوشش

وزارت کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ لائن آف ایکچول کنٹرول پر حالات کو لے کر وزیر خارجہ ایس جئے شنکر نے اپنے چینی ہم منصب سے 10 ستمبر 2020 کو ماسکو میں ملاقات کی تھی۔ دونوں ہی فریق بات چیت میں اس بات پر راضی ہوئے تھے کہ یہ تنازعہ کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے۔

  • Share this:
سرحدی تنازعہ پر پارلیمنٹ میں وزارت خارجہ کا جواب: اپریل۔ مئی کے بعد چین نے کئی بار کی دراندازی کی کوشش
فائل فوٹو

نئی دہلی۔ چین کے ساتھ اپریل 2020 سے چل رہے سرحدی تنازعہ (Border Dispute) کو لے کر وزارت خارجہ (MEA) نے پارلیمنٹ میں جواب دیا ہے۔ وزارت کی طرف سے دئیے گئے رسمی جواب میں کہا گیا ہے کہ پچھلے سال اپریل۔ مئی کے بعد سے ایل اے سی پر چین کی طرف فوجیوں کی تعداد بڑھی ہوئی ہے۔ مئی مہینے کے بعد سے کئی بار چین کی طرف سے ایل اے سی کے نزدیکی علاقوں میں دراندازی کی کوشش کی گئی جس کا ہندستان کی طرف سے معقول جواب دیا گیا ہے۔


دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کی ملاقات کا ذکر


وزارت کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ لائن آف ایکچول کنٹرول پر حالات کو لے کر وزیر خارجہ ایس جئے شنکر نے اپنے چینی ہم منصب سے 10 ستمبر 2020 کو ماسکو میں ملاقات کی تھی۔ دونوں ہی فریق بات چیت میں اس بات پر راضی ہوئے تھے کہ یہ تنازعہ کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے۔ یہ اتفاق رائے بنا تھا کہ دونوں فریق کو بات چیت جاری رکھنی چاہئے اور جلد سے جلد افواج پیچھے کی جانی چاہئیں جس سے امن قائم ہو سکے۔


وزرائے دفاع کی ملاقات کا ذکر

وزارت نے دونوں ملکوں کے وزرائے دفاع کی ملاقات کا ذکر بھی کیا ہے۔ جواب میں کہا گیا ہے۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اپنے چینی ہم منصب سے 4 ستمبر 2020 کو ماسکو میں ملاقات کی تھی۔ دونوں وزرا نے ایک دوسرے کو پیغام دیا تھا کہ سرحدی تنازعہ کو بات چیت کے ذریعہ سلجھایا جانا چاہئے۔

غور طلب ہے کہ اپریل۔ مئی کے مہینے سے شروع ہوئے سرحدی تنازعہ میں اس وقت بیحد سنگین موڑ آ گیا تھا جب جون مہینے میں گلوان وادی کا واقعہ رونما ہوا۔ اس میں اپنے 20 شہیدوں کی شہادت کے بعد ہندستان نے بیحد سخت رخ اختیار کیا۔ ہندستان نے واضح لفظوں میں چین کو جواب دیا کہ سرحد پر بدامنی کے ساتھ دونوں کے رشتے معمول نہیں رہ سکتے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Feb 03, 2021 09:07 PM IST