உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بین المذاہب مکالمہ جرم نہیں، مولانا کلیم صدیقی کو فوراً رِہا کیا جائے: ایس آئی او

    Youtube Video

    محمد سلمان احمد نے کہا ہے معروف عالم دین مولانا کلیم صدیقی اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری ہندوتوا طاقتوں کی جانب سے بین المذاہب مکالموں کو روکنے اور یوپی انتخابات سے قبل فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دینے اور کی ایک اور کوشش ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    اسٹوڈنٹ اسلامک آرگنائزیشن SIO  کے صدر محمد سلمان نے اسلامک اسکالر کلیم صدیقی (Maulana Kaleem Siddiqui ) کی گرفتاری پر سوال اٹھایا ہے محمد سلمان احمد نے کہا ہے معروف عالم دین مولانا کلیم صدیقی اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری ہندوتوا طاقتوں کی جانب سے بین المذاہب مکالموں کو روکنے اور یوپی انتخابات سے قبل فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دینے اور کی ایک اور کوشش ہے۔ دوستانہ بین المذاہب مکالموں کے ذریعے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے کی کوششوں کے باعث مولانا کلیم صدیقی کو مختلف مذاہب کے ماننے والے لوگ عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی مختلف اقوام کے درمیان موجود عدم اعتماد کی فضا کو دور کرنے اور ایک دوسرے کو بہتر انداز میں سمجھنے کے لئے وقف کر رکھی ہے۔ اس الزام میں کوئی حقیقت نہیں ہے کہ انہوں نے زبردستی یا کسی خاص غرض سے لوگوں کا تبدیلِ مذہب کرایا. یوپی اے ٹی ایس کے ذریعہ درج کی گئی FIR مکمل طور پر جعلی اور فرضی ہے۔
    ہمارا ماننا ہے کہ مولانا صدیقی کو یوپی حکومت نے انتخابی فوائد کے لئے بلی کا بکرا بنایا ہے۔ ہم اِس طرح کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہیں اور ملزمین کی فوری رِہائی کی اپیل کرتے ہیں۔ بے گناہ مسلمانوں پر مسلسل ظلم و ستم قابل مذمت ہے اور اسے فوری طور پر روکا جائے۔ اس طرح کی کارروائیاں صرف بدامنی کی فضا پیدا کریں گی اور ملک کے سماجی تانے بانے کے لئے سراسر نقصان دہ ثابت ہوں گی۔ اپنی پسند کے کسی بھی مذہب پر عمل یا اسکی تبلیغ کا حق ہمارے آئین میں درج ہے۔ یوپی کا تبدیلی مذہب مخالف قانون ان آزادیوں کو مجروح کرتا ہے اورعام لوگوں کو ہراساں کرنے کا آلہ کار بن گیا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ معزز عدالتیں آئینی اقدار کی پاسداری کریں گی اور اس طرح کے قانونوں پر روک لگا ئے۔

    واضح ہو کہ تبدیلی مذہب کے الزام میں میرٹھ سے معروف اسلامی اسکالر مولانا کلیم صدیقی کو اترپردیش اے ٹی ایس UP ATS نے گرفتار کیا ہے۔ ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس نظم ونسق پرشانت کمار نے بدھ کو میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ بیرون ممالک فنڈنگ کے تحت ملک میں مبینہ تبدیلی مذہب کرانے والے گروہ کا پولیس نے گزشتہ دنوں انکشاف کیا تھا اور 20 جون کو اس سلسلے میں دس افرا د کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اسی سلسلے میں مولانا کلیم صدیقی کو گرفتار کیا گیا ہے۔

    انہوں نے دعوی کیا کہ جانچ میں یہ حقائق سامنے آئے ہیں کہ مولانا کلیم صدیقی مبینہ تبدیلی مذہب کے کام میں ملوث ہیں اور مختلف طرح کے تعلیمی، سماجی اداروں کی آڑ میں تبدیلی مذہب کا کام ملک گیر سطح پر کیا جارہا ہے ۔ اس کے لئے بیرون ممالک سے فنڈنگ کی جارہی ہے۔ اس کام میں ملک کے کئی معروف لوگ اور ادارے شامل ہیں ۔ جانچ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ مولانا ہندوستان کا سب سے بڑا تبدیلی مذہب سنڈیکیٹ چلاتے ہیں اور غیر مسلموں کو گمراہ کر کے اور ڈرا دھمکا کر ان کا مذہب تبدیل کراتے ہیں ۔

    پرشانت کمار نے بتایا کہ 20 جون کو مبینہ تبدیلی مذہب گروہ چلانے والے لوگ گرفتار کئے گئے تھے ۔ جانچ میں پتہ چلا تھا کہ اس معاملے میں گرفتار عمر گوتم اور ان کے ساتھیوں کو برٹش کی ایک تنظیم سے تقریبا 75 کروڑ روپے کی فنڈنگ کی گئی تھی ، جس کے خرچ کی تفصیلات ملزمین نہیں دے پائے ۔ مولانا سے پہلے گرفتار دس میں سے چھ لوگوں کے خلاف مختلف تواریخ میں چارج شیٹ داخل کی جاچکی ہے جبکہ چار کے خلاف جانچ چل رہی ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: