உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سرسید ڈے اسپیشل: اٹھ کہ اب دورِ جہاں کا اور ہی انداز ہے

    فائل فوٹو

    فائل فوٹو

    سرسید کی تعلیمی جدوجہد اور علی گڑھ تحریک کی ایک طویل تاریخ ہے جس پر 1898 سے تا دمِ تحریر لاکھوں مضامین اور کتب قلم بند کی جا چکی ہیں جس کے نتیجہ میں مدرسۃ العلوم کا قیام عمل میں آیا۔

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:

      ہندوستان کی لازوال عظمت محض بلند و بالا شاندارتاریخی عمارتوں یا راجا مہاراجاؤں کے قصوں سے عبارت نہیں بلکہ اس کے وقار کی بنیاد اس کی مشترکہ تہذیب و ثقافت اور رواداری پر قائم ہے جس کو ہندوستان کے عظیم سپوتوں نے اپنے خون سے سینچ کر پروان چڑھایا ہے۔ ملک کے ایسے ہی عظیم فرزندوں میں ایک نہایت قابلِ احترام نام سرسید علیہ الرحمۃ کا ہے جنہوں نے1857کی ناکام جنگِ آزادی کے بعد ہندوستانیوں اور با لخصوص مسلمانوں پر انگریزوں کے مظالم کا نہایت قریب سے مشاہدہ کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ برطانوی اقتدار سے نبرد آزما ہونے کے لئے کمزور ہندوستانیوں کو جدید تعلیم و تربیت کے ہتھیار سے مزیّن کیا جانا نہایت ضروری ہے جس کے بغیر وہ انگریزوں کا مقابلہ تو کجا ان کے سامنے لمحہ بھر ٹکنے کے قابل نہیں ۔


                  سرسید کی تعلیمی جدوجہد اور علی گڑھ تحریک کی ایک طویل تاریخ ہے جس پر 1898 سے تا دمِ تحریر لاکھوں مضامین اور کتب قلم بند کی جا چکی ہیں جس کے نتیجہ میں مدرسۃ العلوم کا قیام عمل میں آیا جو ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے آج علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شکل میں نہ صرف اپنے بانی کے خلوص کا مظہر ہے بلکہ ملک کے ایک بڑے طبقہ کی علمی ضروریات کی تکمیل کر رہا ہے۔ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اس کے فارغین ادارہ کے تعلیمی معیار ہی نہیں بلکہ اس کی تربیت کی بدولت زمانے بھر کی توجہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور سرسید کی ذہانت کی جانب مبذول کرا رہے ہیں۔  سرسید نے اس ادارہ کے قیام سے قبل آکسفورڈ اور کیمبرج کا دورہ کرکے وہاں کے طرزِ تعلیم کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا۔ سرسید محض ایک تعلیم یافتہ نسل تیار کرنے میں یقین نہیں رکھتے تھے بلکہ وہ ایک معیاری تعلیم یافتہ اور حد درجہ تربیت یافتہ نسل کی آبیاری میں مصروف تھے۔ یہی وجہ تھی کہ سرسید نے مدرسۃ العلوم کو اقامتی تعلیمی ادارہ کی شکل میں قائم کیا جس کا مقصد محض طلبأ کو بہترین تربیت دینا تھا تاکہ وہ معاشرہ میں ایک منفرد مقام کے حامل ہوں اور ان کے طور طریقوں سے ان کو شناخت کیا جاسکے۔


                  جب تک ادارہ سرسید تحریک اور ان کے مشن کی ڈور مضبوطی کے ساتھ تھامے رہا اس جلیل القدر دانش گاہ نے ایسے فرزند پیدا کئے جنہوں نے نہ صرف زندگی کے ہر شعبہ میں اپنے کارہائے نمایاں سے ملک و ملت کا نام روشن کیا بلکہ کئی ممالک کو ان کے ایسے سربراہان بھی دئے جنہوں نے اپنی صلاحیتوں سے تاریخ کے صفحات پر اپنے ملک کو حیات جاوداں عطا کی۔ اگر ادارے کی تاریخ پر غور کیا جائے تو چاہے وہ علم کا میدان ہویا سائنس اور ٹیکنالوجی، سیاست، صنعت و حرفت، کھیل کود، فلم، دیگر فنونِ لطیفہ، انتظامیہ، ادب، ثقافت غرض کوئی بھی میدان ہوفرزندان سرسید ہر جگہ ادارہ اور ہندوستان کی عظمت کا پرچم بلند کرتے نظر آئیں گے۔ تعلیمی اداروں کی دنیا میں کوئی کمی نہیں لیکن تعلیم کے ساتھ باوقار معیاری تربیت پر جس سطح پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے زور دیا وہ عالمی منظر نامہ پر خال خال ہی نظر آئے گا۔ مگر افسوس کہ شاید ہمارے اس طرۂ امتیاز کو کسی کی نظر لگ گئی اور ہمارے نوجوان بھی دورِ حاضر کی بے راہ روی سے متاثرنظر آنے لگے جس کا بڑا سبب اس کے سوا کچھ نہیں کہ اب ہماری زندگی میں سرسید کی تعلیمات کا وہ مقام نہیں رہا جو ہونا چاہئے تھا۔ ہم نے اپنے اسلاف کے کارناموں کو بھلا دیا جس کی وجہ سے عظمتیں ہمارے گھر کا پتہ بھول گئیں۔ ہم سرسید تحریک کی لَو کو بڑھانے کی جگہ اس سے پیٹھ موڑ کر بیٹھ گئے جس کے نتیجہ میں ہر سمت سے ہم تنقید کا نشانہ بننے لگے۔


                  دورِ حاضر میں نوجوانوں کی بے راہ روی، بزرگوں کی عظمت کا خیال نہ رکھنا، تعلیمی معیار پر توجہ کا فقدان، اپنے مستقبل کی جانب سے غفلت محض اس لئے ہے کہ ہمارے لئے جس تربیت کی ضرورت سرسید نے محسوس کی تھی اس کا دامن ہمارے ہاتھ سے چھوٹ چکا ہے۔ ہمارے نوجوانوں میں اخلاقی اقدار کے فقدان کے لئے صرف نوجوان ہی نہیں بلکہ بڑی حد تک ان کے سرپرست اور ان کے تربیت دہندگان بھی ذمہ دارہیں جو سرسید کی تعلیمات کو کہیں کافی دور پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ آج طلبأ کا بات بات پر مظاہرہ پر آمادہ ہوجانا، اپنی تعلیم سے زیادہ دیگر امور پر توجہ دینا ہمارے معاشرہ کے زوال کی سمت اٹھتے قدم ہیں اگر ان کا بر وقت تدارک نہیں کیا گیا تو وہ دن دور نہیں جب ہماری عظمتِ رفتہ محض تاریخ کے اوراق میں دفن ہوکر رہ جائے۔ ہمارے نوجوانوں کو سرسید سے درس لینا ہوگا۔ جب شاعرِ مشرق علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال سرسید کو اپنا آئیڈیل مان کر نوجوانوں کو مشورہ دے سکتے ہیں کہ’’ تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر‘‘ تو دورِ حاضر میں ہم اپنے نوجوانوں کی تربیت سرسید کی تعلیمات کی روشنی میں کیوں نہیں کر سکتے۔


      _amu-sir-syed


                  وقت کا تقاضہ ہے کہ سرسید کی تحریک اور ان کے مشن کو فروغ دینے کی سمت میں سنجیدہ کاوشیں عمل میں لائی جائیں۔اس میں علیگ برادری ایک بڑا رول ادا کرسکتی ہے۔ سینئر علیگ دورِ حاضر کے نوجوانوں کے لئے مثال بن سکتے ہیں۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کو موجودہ نسل سے اپنے روابط کو فروغ دینا ہوگا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہر سال منعقد ہونے والی ’’ الیومنائی میٹ‘‘ اس سمت میں ایک مثبت اقدام ہے۔ یونیورسٹی کی موجودہ انتظامیہ سرسید کے مشن کو فروغ دینے کی سمت میں جو سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے وہ قابلِ ستائش ہیں۔ ہمیں ہمہ وقت یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ( ریٹائرڈ) اور پرو وائس چانسلر برگیڈیئر سید احمد علی( ریٹائرڈ) نے اپنی عملی زندگی کا آغاز کرنے تک اس ادارہ سے کچھ حاصل نہیں کیا لیکن یہاں کے عہدوں پر فائز ہونے کے بعد وہ سرسید کی خدمات اور ان کی تحریک سے حد درجہ متاثر ہوکر جس طرح سرسید کے مشن کو آگے بڑھانے کی سمت میں سنجیدہ اقدامات کر رہے ہیں ان کے پیشِ نظر ہر علیگ کا فرض بنتا ہے کہ ملت اسلامیہ کے روشن مستقبل کی خاطر وہ ان کی کاوشوں میں ان کے ساتھ بھر پور تعاون کرے تاکہ ہم دورِ حاضر میں نوجوانوں میں بڑھتی بے راہ روی کا تدارک کرنے میں کامیاب ہوسکیں۔ یاد رکھیں اگر ہم نے اپنے بچوں کے لئے فی الوقت کوئی مثبت اقدام نہیں کیا تو آنے والی نسلیں ہمیں کسی حال میں معاف نہیں کرپائیں گی اور ’’ ہماری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں‘‘۔


                                                                                      عمر سلیم پیرزادہ


      نوٹ: مضمون نگار علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی میں رابطہ عامہ کے آفیسر ہیں۔

      First published: