உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دہلی میں اردوتعلیم اوراردو اساتذہ کی صورتحال تشویشناک، تمام دعووں کے باوجود آرٹی نے کھول کررکھ دی حکومت کی قلعی

    اردو میڈیم اسکول کی طالبات: فائل فوٹو

    اردو میڈیم اسکول کی طالبات: فائل فوٹو

    اسکولوں میں اردو پڑھانے والے اساتذہ کی کمی کوعام آدمی پارٹی کی حکومت پورا نہیں کرپائی ہے، جس کی وجہ سے نصف سے زیادہ اسکول طلبا کواردوآفرہی نہیں کررہے ہیں۔

    • Share this:

      دہلی میں اردوتعلیم کی صورتحال میں کسی طرح سے کوئی سدھار دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے۔ خاص طورپراسکولوں میں اردو پڑھانے والے اساتذہ کی کمی کوعام آدمی پارٹی کی حکومت پورا نہیں کرپائی ہے، جس کی وجہ سے نصف سے زیادہ اسکول طلبا کواردوآفرہی نہیں کررہے ہیں۔ 


      دہلی میں اردوکے 1028 پوسٹوں پرصرف 57 ٹی جی ٹی ٹیچرہیں جبکہ 971 عہدے خالی ہیں۔ 521 اسکولوں میں اردو آفرہی نہیں کی جارہی ہے۔ جبکہ 1027 اسکولوں میں سے صرف 284 اسکولوں میں اردوپڑھائی جارہی ہے۔


      اقلیتی کمیشن میں شکایت


      دہلی کواردوزبان تعلیم کی وجہ سے غالب اورمیرکی دہلی کہا جاتا ہے۔ پارلیمنٹ سے لے کرسڑکوں تک بات بات میں اشعارپڑھے جاتے ہیں، لیکن اسی شہرمیں اردوتعلیم کی صورتحال انتہائی ناگفتہ بہ ہے اوراس معاملے میں دہلی اقلیتی کمیشن میں بھی شکایت درج کرائی گئی ہے۔


      اردو کی 971 نشستیں خالی


      اطلاعات کے مطابق 805 اسکولوں میں اردوٹیچرکی نشستیں ہیں۔ ٹی جی ٹی 1028 اردو ٹیچرکی پوسٹ ہے، 57 مستقل ٹیچر، 88 اردواکیڈمی ٹیچر ہیں۔ اس کے علاوہ 971 عہدے خالی ہیں۔  جبکہ پی جی ٹی کے 71 نشستیں ہیں۔ 39 ٹیچرمستقل اپنی ذمہ داری انجام دے رہے ہیں جبکہ 24 گیسٹ ٹیچرہیں۔ اس میں بھی 8 پوسٹ خالی ہیں۔


      کانگریس نے حکومت پر تنقید کی


      ایسے حالات کودیکھ کراندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اردوتعلیم کی کیا صورتحال ہے۔ حالانکہ کیجریوال حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ وہ دودوٹیچروں کی بھرتی کرے گی، لیکن یہ وعدہ اب تک پورا نہیں ہوا ہے۔ اس کی وجہ سے اقتدارمیں واپسی کا خواب دیکھ کرکانگریس کوعام آدمی پارٹی حکومت پر حملہ بولنے کا موقع مل گیا ہے۔ سابق ریاستی وزیراورکانگریس کے سینئرلیڈرہارون یوسف نےعام آدمی پارٹی پرجم کرحملہ بولتے ہوئے کہا ہے کہ عام آدمی پارٹی نے عوام کو گمراہ کیا ہے۔ انہوں نے جو بھی وعدے کئے، اسے پورا نہیں کیا۔ مسلم اکثریتی حلقوں میں تعلیم کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔


      طلبا اورسرپرست فکرمند


      گورنمنٹ سینئرسیکنڈری اسکول گھونڈا نمبر2 میں پڑھنے والی طالبہ علیزہ اوراس کی ماں زبیدہ خاتون اس بات کو لے کرپریشان ہیں کہ اسکول میں اردوٹیچرنہیں ہیں۔ گزشتہ 6 ماہ سے بغیرٹیچرکے کام چل رہا ہے۔ بچی نے امتحان بھی دے دیا ہے، لیکن تعلیم کا کیا ہوگا یہ سوچ کرماں اوربیٹی دونوں پریشان ہیں۔


      اردو ٹیچرکے امیدوارنشاط احمد کہتے کہیں کہ 2016 سے دہلی میں اردوٹیچربننے کے لئے اپلائی کرتے رہے ہیں۔ بی ایڈ اورسی ٹیٹ بھی ہیں، لیکن آج تک ان کی تقرری نہیں ہوسکی ہے۔


      آرٹی آئی میں اردو کی زبوں حالی اجاگر


      آرٹی آئی سے ملی اطلاعات کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال اردو پڑھانے والے اسکولوں کی تعداد 272 سے بڑھ کر 284 تو ہوگئی ہے، لیکن 1250 خالی اسامیاں گھٹ کر1028 ہوگئی ہیں۔ وہیں 805 اردوکے منظورشدہ اسکولوں میں 521 اسکول اردو آفرنہیں کررہے ہیں۔ ایسے میں آرٹی آئی کارکن منظرعلی دہلی حکومت کی اس پالیسی پرسوال اٹھاتے ہیں، جس کے تحت ٹیچروں کی تقرری ڈیمانڈ کی بنیاد پرہوتی ہے اوراسکولوں کے پرنسپل اردوٹیچرکی تقرری کرنے سے کتراتے ہیں۔ صورتحال کودیکھ کربھید بھاوکئے جانے کا بھی الزام لگتا ہے۔


      دوسری سرکاری زبان کے ساتھ سوتیلا برتاو


      دہلی میں اردوزبان کو 1999 میں دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا تھا اورتین زبانوں کے فارمولہ کے تحت اردو، پنجابی کوپڑھایا جانا تھا، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ آج بھی اسکولوں میں 70 فیصد اسامیاں خالی ہیں۔ گزشتہ دنوں اردو ٹیچرکے لئے 213 پوسٹ نکالی گئی ہیں، لیکن ابھی ان پرتقرری نہیں ہوسکی ہے۔ وہیں اس معاملے میں دہلی حکومت خاموش ہے توتقرری کرنے والا محکمہ ڈی ایس ایس بی ہرریکارڈ کو (رازدارانہ (کانفیڈینشیل) بتاتا ہے۔ ایسے حالات میں دہلی حکومت کا ملک میں سب سے بہترسرکاری تعلیم کا دعویٰ کیسا ہے، آپ خود اندازہ لگاسکتے ہیں۔

      First published: