உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    چھ ماہ سے خالی ہے سالسٹر جنرل کا عہدہ، نئے سالسٹر جنرل کی تقرری پر نہیں ہورہی ہے کارروائی

    نریندر مودی اور روی شنکر پرساد: فائنل فوٹو

    نریندر مودی اور روی شنکر پرساد: فائنل فوٹو

    ملک کو نیا سالسٹر جنرل کب ملے گا، گزشتہ 6 ماہ سے اس سوال کا جواب نہیں مل پایا ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ 6 ماہ میں اس عہدہ پر نئی تقرری کو لے کر نہ تو ایک بھی سرکاری میٹنگ ہوئی اور نہ ہی ناموں کا انتخاب کیا گیا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: ملک کو نیا سالسٹر جنرل کب ملے گا، گزشتہ 6 ماہ سے اس سوال کا جواب نہیں مل پایا ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ 6 ماہ میں اس عہدہ پر نئی تقرری کو لے کر نہ تو ایک بھی سرکاری میٹنگ ہوئی اور نہ ہی ناموں کا انتخاب کیا گیا۔

      آرٹی آئی کے تحت یہ انکشاف ہوا ہے۔ سینئر وکیل رنجیت کمار کے استعفیٰ کے بعد سے سالسٹر جنرل کا عہدہ ایک نومبر 2017 سے خالی ہے۔ رنجیت کمار نے ذاتی وجوہات  سے یہ عہدہ چھوڑ دیا تھا۔

      سی این این نیوز 18 کی آرٹی آئی کے جواب میں وزارت قانون نے بتایا کہ نئے سالسٹر جنرل کے انتخاب کو لے کر میٹنگ یاانتخاب کے لئے وکیلوں کے ناموں پر غور کئے جانے کی اطلاع نہیں ہے۔ آگے کہا گیا ہے کہ اس بارے میں بھی اطلاع نہیں ہے کہ کن وکیلوں نے اس عہدہ کی تجویز کو ٹھکرایا اور کن وکیلوں نے اس کے لئے دعوی کیا ہے۔  وزارت کے اس جواب کے بعد نئے سالسٹر جنرل کو لے کر پہیلی مزید پیچیدہ ہوگئی ہے۔ یہ بہت ہی عجیب وغریب معاملہ ہے کہ استعفیٰ کے بعد بھی عہدہ کو نہیں پر کیا گیا۔

      سالسٹر جنرل کی تقرری کو کابینہ کی تقرری کمیٹی منظوری دیتی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ نئے سالسٹرجنرل کو لے کر حکومت پس وپیش میں ہے۔ اسے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ موجودہ ایڈیشنل سالسٹر جنرل میں سے ہی کسی کو منتخب کرنا ہے یا پھر کسی دوسرے سینئر وکیل کو بنایا جائے۔

      موجودہ ایڈیشنل سالسٹر جنرل میں سے کسی ایک کو بنائے جانے پر ذرائع نے بتایا کہ ان میں سینئرٹی بڑا مسئلہ ہے۔ وہیں ایک سینئر وکیل جن کو دوبارہ سمجھا جارہا تھا، انہوں نے تین ماہ قبل اس عہدہ کے لئے منع کردیا ہے۔ وزارت قانون کے جواب نے یہ واضح کردیا ہے کہ تقرری کو لے کر حکومت کا سرکاری قدم باقی ہے۔
      First published: