ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اپوزیشن کے الزامات پر بولیں اسمرتی ایرانی، فرض پورا کرنے کے لئے معافی نہیں مانگوں گی

نئی دہلی۔ روہت ویمولا اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی تنازعہ پر مرکزی وزیراسمرتی ایرانی نے لوک سبھا میں اپوزیشن کو کرارا جواب دیتے ہوئے اپنا موقف رکھا۔

  • IBN Khabar
  • Last Updated: Feb 24, 2016 08:49 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
اپوزیشن کے الزامات پر بولیں اسمرتی ایرانی، فرض پورا کرنے کے لئے معافی نہیں مانگوں گی
نئی دہلی۔ روہت ویمولا اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی تنازعہ پر مرکزی وزیراسمرتی ایرانی نے لوک سبھا میں اپوزیشن کو کرارا جواب دیتے ہوئے اپنا موقف رکھا۔

نئی دہلی۔ روہت ویمولا اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی تنازعہ پر مرکزی وزیراسمرتی ایرانی نے لوک سبھا میں اپوزیشن کو کرارا جواب دیتے ہوئے اپنا موقف رکھا۔ روہت ویمولا کے معاملے پر بولتے ہوئے اسمرتی ایرانی نے کہا کہ روہت ویمولا کو معطل کرنے کا فیصلہ جس کمیٹی نے کیا تھا اس میں سے تمام لوگوں کو یو پی اے نے مقرر کیا تھا، اس کمیٹی میں میں نے لوگوں کو مقرر نہیں کیا۔ لیکن جب ہم نے دیکھا کہ اس کمیٹی میں کوئی دلت نہیں ہے، تو میں نے اس میں كوآپٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔


روہت کی موت پر جذباتی ہوئیں ایرانی نے کہا کہ میں نے بچہ دیکھا اس کی ذات نہیں دیکھی تھی۔ میرا نام اسمرتی ایرانی ہے۔ لیکن کوئی مجھے میری ذات بتا سکتا ہے۔ جو آج یہاں ہو رہا ہے اس سے میرے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ اسمرتی ایرانی نے کہا کہ مجھے 66200 خطوط عام لوگوں کے ملے۔ اس میں میں نے 61892 مسائل کو حل کیا ہے۔ میں نے جن کا مسئلہ حل کیا، اس سے یہ نہیں پوچھا کہ تمہاری کیا ذات ہے، تمہارا کیا مذہب ہے، میں نے صرف کام کیا۔


مخالفین کی طرف سے بی جے پی کو سنگھی پارٹی کہے جانے کا جواب دیتے ہوئے اسمرتی نے کہا کہ کچھ  لوگ کہتے ہیں کہ یہ سنگھیوں کی پارٹی ہے۔ لیکن میں بتانا چاہتی ہوں کہ میں نے جن کے مسئلہ کو حل کیا ان کی نسل اور مذہب نہیں دیکھا۔ مجھے 12 فروری 2015 کو ایک کشمیر کے طالب علم نے خط لکھا کہ اس کی اسکالر شپ نہیں مل رہی۔ میں نے اس کو ایک لاکھ کی فیلو شپ دی۔ آپ کو اس کشمیری کا نام بتا دوں اس کا نام اقبال ہے۔


نارائن سامی کے خط کا جواب دیتے ہوئے اسمرتی نے کہا کہ جو کام میں کر رہی ہوں، اس کے لئے معافی نہیں مانگوں گی۔ میں تو اپنے فرض پر عمل کر رہی ہوں اور اس کے لئے معافی نہیں مانگوں گی۔

 
First published: Feb 24, 2016 08:48 PM IST