ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

بھیڑ کے ہاتھوں مسلمانوں کے بے رحمانہ قتل کے خلاف سماجی کارکن شبنم ہاشمی نے لوٹایا قومی اقلیتی حقوق ایوارڈ

مشہور سماجی کارکن شبنم ہاشمی نے بھیڑ کے ہاتھوں مسلمانوں کو پیٹ پیٹ کر مار دینے کے بے رحمانہ واقعات اور ان میں دہشت پھیلانے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے قومی اقلیتی حقوق ایوارڈ آج لوٹا دیا۔

  • UNI
  • Last Updated: Jun 27, 2017 10:12 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
بھیڑ کے ہاتھوں مسلمانوں کے بے رحمانہ قتل کے خلاف سماجی کارکن شبنم ہاشمی نے لوٹایا قومی اقلیتی حقوق ایوارڈ
مشہور سماجی کارکن شبنم ہاشمی نے بھیڑ کے ہاتھوں مسلمانوں کو پیٹ پیٹ کر مار دینے کے بے رحمانہ واقعات اور ان میں دہشت پھیلانے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے قومی اقلیتی حقوق ایوارڈ آج لوٹا دیا۔

نئی دہلی : مشہور سماجی کارکن شبنم ہاشمی نے بھیڑ کے ہاتھوں مسلمانوں کو پیٹ پیٹ کر مار دینے کے بے رحمانہ واقعات اور ان میں دہشت پھیلانے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے قومی اقلیتی حقوق ایوارڈ آج لوٹا دیا۔  غیر سرکاری تنظیم ’انہد‘ کی اہم محترمہ ہاشمی نے قومی اقلیتی کمیشن کے دفتر میں جاکر ایوارڈ لوٹا دیا۔ انہیں یہ ایوارڈ سال 2008 میں متحدہ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) حکومت کے دور میں ملا تھا۔

انہوں نے ’يواین آئی‘ کو بتایا کہ جس طرح ملک میں مسلمانوں کے خلاف فرقہ وارانہ اشتعال کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے اور اخلاق، پہلو خان ​​اور اب جنید کو پیٹ پیٹ کر قتل کیا گیا، اس سے دل برداشتہ ہوکر انہوں نے ایوارڈ واپس کرنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے کہا، ’’گزشتہ کچھ برسوں سے ملک کو ہندو راشٹر بنانے کی کوششیں چل رہی ہیں اور اس کے لئے مسلمانوں کے خلاف نفرت کو فروغ دیا جا رہا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ جنید جیسے بچے بھی بھیڑ پیٹ پیٹ کر سر عام قتل کردیتی ہے اور حکومت تماشہ دیکھتی رہتی ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ قومی اقلیتی کمیشن اس معاملے پر کھل کر ساتھ نہیں دیتا اور ان کے حقوق کی حفاظت نہیں کر پاتا، لہذا اس کے خلاف احتجاج میں انہوں نے ایوارڈ لوٹانے فیصلہ کیا ۔ اس ایوارڈ میں نقد رقم شامل نہیں ہے۔

First published: Jun 27, 2017 10:12 PM IST