உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سیاست زندگی کا ایک اہم جز و، اس سے دوری نقصان کا باعث : شارب تسنیم

    علی گڑھ: سرسید اویرنس فورم کی جانب سے آرٹی آئی ایکٹیوسٹ اورسماجی کارکن شارب تسنیم کو استقبالیہ دیا گیا،جس میں شہر اور مسلم یونیورسٹی کے معززین اور سماجی کارکنان نے شرکت کی۔

    علی گڑھ: سرسید اویرنس فورم کی جانب سے آرٹی آئی ایکٹیوسٹ اورسماجی کارکن شارب تسنیم کو استقبالیہ دیا گیا،جس میں شہر اور مسلم یونیورسٹی کے معززین اور سماجی کارکنان نے شرکت کی۔

    علی گڑھ: سرسید اویرنس فورم کی جانب سے آرٹی آئی ایکٹیوسٹ اورسماجی کارکن شارب تسنیم کو استقبالیہ دیا گیا،جس میں شہر اور مسلم یونیورسٹی کے معززین اور سماجی کارکنان نے شرکت کی۔

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:
      علی گڑھ: سرسید اویرنس فورم کی جانب سے آرٹی آئی ایکٹیوسٹ اورسماجی کارکن شارب تسنیم کو استقبالیہ دیا گیا،جس میں شہر اور مسلم یونیورسٹی کے معززین اور سماجی کارکنان نے شرکت کی۔ اس موقع پرشارب تسنیم نے کہا کہ آج کے دور میں سیاست زندگی کا ایک اہم جز بن گئی ہے اور اس سے دوری نقصان کا باعث ہے، مسلمانوں کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ان کی سیاسی قیادت ایسی افراد کے ہاتھ میں ہے جو ملی مسائل سے کم واقف ہیں اور ملی مسائل کو حل کرنے میں کوئی دلچسپی بھی نہیں رکھتے، اگر کوئی ایکٹیوسٹ کسی مسلمان ایم ایل اے یا ایم پی سے ان کے فنڈ اور ترقیاتی کاموں کے اخراجات کی معلومات حاصل کرے تو وہ ناراض ہوجاتے ہیں اور اسے اپنا دشمن گردانتے ہیں، جب کہ ہونا یہ چاہئے کہ انھیں اس شخص کی حوصلہ افزائی کرنا چاہئے کہ وہ ملی مسائل میں دلچسپی لے رہا ہے اور لیڈران کو ان کی ذمہ داری کی طرف متوجہ کر رہا ہے۔ مہمانان خصوصی شارب تسنیم نے کہا کہ دلی میں اردو اساتذہ کی اسامیاں خالی پڑی ہوئی ہیں، وقف بورڈ کی املاک ناجائز قبضہ میں ہے، مسلمانوں کے محلے گندگی اور غلاظت کا شکار ہیں لیکن مسلم لیڈران ان مسائل کو حل کرنے کے لئے سنجیدہ نہیںہیں۔
      اس موقع پر سعودی عرب سے ریٹائرڈ انجینئر احمد عثمانی نے کہا کہ ملک کا ماحول دن بدن پرا گندہ ہوتا جارہا ہے اور مین اسٹریم میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا بھی حق بات کو کہنے کو تیار نہیںہے۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ گورنمنٹ اسکیم کا فائدہ مسلمانوں کو بہت کم ہو پارہا ہے کیونکہ ہر اسٹیج پر افسران کی جانب سے فنڈلیز کرنے میں رکاوٹیں پیدا کی جاتی ہیں۔ ریٹائرڈ بینک آفسر اور یو ایم او کے سرگرم کار کن نجم عباسی نے کہا کہ آج کے دور میں میڈیا کا رول انتہائی اہم رول ہوگیا ہے اور ہمیں نہ صرف میڈیا میں اچھے افراد کی نشاندہی کرنی چاہئے بلکہ ان کی نت نئے طریقوں سے حوصلہ افزائی کرنا چاہئے۔
      سرسید اویر نس فورم کے صدر اور مسلم یورنیورسٹی کے استاد پروفیسر شکیل صمدانی نے کہا کہ ہماری سیاسی لیڈر شپ مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے اور اس نے تنگ نظری، ذاتی مفاد، حرص ، خود غرضی اور جہالت کی وجہ سے ہندوستانی مسلمانوں کا بہت نقصان کیا ہے۔انھوںنے زور دے کر کہا کہ ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں جہاں جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہوچکی ہیں اور جمہوری قدریں پروان چڑھ رہی ہیں کسی ایک پارٹی کو شجرہ ممنوعہ سمجھنا انتہائی نقصان دہ ہے، عقلمند اور ہوشیار قومیںحالات اور وقت کے حساب سے سیاسی فیصلہ لیتی ہیں اور حکومت وقت سے بہت زیادہ مخالفت مول نہیں لیتی ۔ ہمیں ملت کے ہر اس فرد کی مدد اور حوصلہ افزائی کرنا چاہئے جو ملت کے تئیں سنجیدہ ہے اور ملی کاموں میں دلچسپی لیتاہے۔
      پروفیسر شکیل صمدانی نے شارب تسنیم سے درخواست کی کہ وہ مسلم نوجوانوں میں آرٹی آئی اور آر ٹی ای کے تعلق سے بیداری پیدا کریں اور ملک کے دوسرے حصوں کے نوجوانوں کو اپنے مشن سے جوڑنے کی کوشش کریں۔ مسلم یونیورسٹی طلبہ یونین کے سابق کیبنٹ شعیب علی ایڈوکیٹ نے کہا کہ اترپردیش کا الیکشن انتہائی اہم ہے اور اس میں مسلمانوں کے سنجیدہ طبقے کو پوری دلچسپی لینی چاہئے اور کوشش کرنی چاہئے کہ کسی بھی حال میں فرقہ پرست طاقتیں کامیاب نہ ہونے پائیں، انھوں نے مزید کہا کہ سیاست میں ایماندار، سنجیدہ اور ملت کا درد رکھنے والے افراد کو بھی دلچسپی لینی چاہئے۔
      اس موقع پر سارہ صمدانی نے مہمان خصوصی کو پھولوں کا گلدستہ پیش کیا اور شعیب علی ایڈوکیٹ نے شال پہناکر استقبال کیا۔ استقبالیہ جلسے میں ہیڈ ماسٹر مطیع الغفار(ہاتھرس)، مسرت علی، فورم کے سکریٹری منصور الٰہی، میڈیا انچارج عبداللہ صمدانی، محترمہ انجم تسنیم، محترمہ پروین بیگم، مومن کانفرنس کے عتیق انصاری، فیصل عباسی،علی گڑھ ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے سابق نائب صدر،راشد عثمانی ایڈوکیٹ ، ڈاکٹر عبید اقبال عاصم، سکریٹری یوپی رابطہ کمیٹی وغیرہ نے بھی شرکت کی۔ پروگرام کا آغاز عبداللہ معروفی(مئو) کی تلاوت سے ہوا۔
      First published: