اپنا ضلع منتخب کریں۔

    نریندر سنگھ تومر نے کہا : کچھ کسان تنظیموں نے بات چیت میں کی زرعی قوانین کی حمایت

    نریندر سنگھ تومر نے کہا : کچھ کسان تنظیموں نے بات چیت میں کی زرعی قوانین کی حمایت

    نریندر سنگھ تومر نے کہا : کچھ کسان تنظیموں نے بات چیت میں کی زرعی قوانین کی حمایت

    Farmer Agitation: مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ اترپردیش کی کچھ کسان تنظیموں نے آج مجھ سے ملاقات کی اور زرعی قوانین کی حمایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ ان تین قوانین میں کوئی بھی تبدیلی نہیں کی جانی چاہئے ۔

    • Share this:
      مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے منگل کو کسانوں کی کچھ تنظیموں کے ساتھ بات چیت کے بعد کہا کہ کسانوں کا ماننا ہے کہ زرعی قوانین میں کوئی تبدیلی نہیں ہونی چاہئے ۔ تومر نے کسان تنظیموں کے ساتھ بات چیت کے بعد کہا کہ اترپردیش کی کچھ کسان تنظیموں نے آج مجھ سے ملاقات کی اور زرعی قوانین کی حمایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ ان تین قوانین میں کوئی بھی تبدیلی نہیں کی جانی چاہئے ۔

      مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ کسان سنگھرش سمیتی گوتم بدھ نگر اترپردیش اور بھارتیہ کسان یونین نئی دہلی کے نمائندوں نے نئے زرعی قوانین کی حمایت میں میمورینڈم سونپا ۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ قوانین کسانوں کے حالات میں بہتری لائیں گے اور انہیں واپس نہیں لیا جانا چاہئے ۔

      مرکزی وزیر زراعت نے کسانوں سے بات چیت میں کہا کہ زراعتی اصلاحات سے آنے والے وقت میں کافی فائدہ ہوگا ۔ تومر نے کہا کہ ابھی ہم تھوڑا تھوڑا ایکسپورٹ کرتے ہیں تو 21 ممالک میں ہی کرپاتے ہیں ۔ یہ بازار کھل جائیں گے ، نئے نئے بچے آئیں گے ، کھیتی کو ٹیکنالوجی سے جوڑ دیں گے ، وہ ایکسپورٹر ہوجائیں گے اور ان کے گھر کی آمدنی بڑھے گی ۔

      وزیر زراعت نے کہا کہ ملک کو خودکفیل بنانا ہے تو 70 فیصد کسانوں کو پیچھے رکھ کر کام تھوڑے ہی چلے گا ۔ وزیر زراعت نے کسانوں سے کہا کہ آنے والے کل میں اس کا حل ہوجائے گا ۔

      مرکزی وزیر زراعت تومر نے کسان تنظیموں سے اپیل بھی کی کہ وہ جہاں بھی جاتے ہیں وہاں نئے قوانین کو لے کر مثبت بات چیت کریں ۔ انہوں نے قانون کی پیچیدگیوں کو آسان بناتے ہوئے کہاکہ کسان کے سب سے نزدیک سرکار کی یونٹ ایس ڈی ایم ہیں ۔ ایس ڈی ایم کو 30 دن میں ہی اپنا فیصلہ کرنا ہوگا ۔

      انہوں نے کہا کہ کسان کی اگر غلطی ہوگی تو اس کے خلاف فیصلہ کرتے ہوئے اتنا ہی کرے گی ، جتنا اس نے لیا ہے ۔ سود نہیں لیا جاسکتا ہے ۔ زمین کے خلاف وصولی نہیں کی جاسکتی ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: