உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مسلم قدآورلیڈراعظم خان کے بیٹےعبداللہ اعظم حامیوں کے ساتھ دھرنے پربیٹھے

    رامپورمیں جلتی ہوئی موم بتی کے ساتھ محمد علی جوہریونیورسٹی کے گیٹ پر دھرنا دیتے ہوئے اعظم خان کے بیٹے عبداللہ اعظم۔

    رامپورمیں جلتی ہوئی موم بتی کے ساتھ محمد علی جوہریونیورسٹی کے گیٹ پر دھرنا دیتے ہوئے اعظم خان کے بیٹے عبداللہ اعظم۔

    سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈرکے بیٹے اوررکن اسمبلی عبداللہ اعظم پولیس کے ذریعہ رہا کئے جانے کے بعد دھرنے پربیٹھ گئے۔ جلتی ہوئی موم بتی لے کرمحمد علی جوہریونیورسٹی کے گیٹ پردھرنا دے رہے ہیں۔

    • Share this:
      سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اعظم خان کے بیٹے اوررکن اسمبلی عبداللہ اعظم حامیوں کے ساتھ دھرنے پربیٹھ گئے ہیں۔ وہ جلتی ہوئی موم بتی لے کرمحمد علی جوہریونیورسٹی کے گیٹ پردھرنا دے رہے ہیں۔ سرکاری کاموں میں رکاوٹ ڈالنے کے الزام میں پولیس نے بدھ کی صبح انہیں حراست میں لیا تھا۔ حراست میں تقریباً 6 گھنٹے رکھنے کے بعد پولیس نے انہیں رہا کردیا۔ عبداللہ اعظم محمد علی جوہریونیورسٹی کے سی ای او ہیں۔

      اس سے قبل سماجوادی پارٹی کے لیڈراور رکن پارلیمنٹ اعظم خن کے بیٹے عبداللہ اعظم کو پولیس کی کی کارروائی میں رخنہ اندازی کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔ مدرسہ عالیہ سے چوری ہوئی کتابوں کے معاملے میں بدھ کو دوسرے دن بھی پولیس جوہر یونیورسٹی میں چھاپہ ماری کررہی تھی۔ اسی دوران پولیس کی کارروائی میں رخنہ اندازی کرنے کے الزام میں سی اوسٹی انیں اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

      عبداللہ اعظم سوارسے رکن اسمبلی ہیں۔ ایس پی ڈاکٹراجے پال نے بتایا کہ کام میں رخنہ اندازی کرنے کی وجہ سے انہیں حراست میں لیا گیا تھا۔ منگل کو پولیس نے جوہریونیورسٹی سے چوری ہوئی 2000 کتابوں کوبرآمد کیا گیا تھا۔ عبداللہ اعظم کے خلاف پہلے سے یوپی پولیس نے دھوکہ دہلی کرنے کا معاملہ درج کیا تھا۔ سابق وزیرکے بیٹے کی تحریرپریہ ایف آئی آردرج کی گئی تھی۔ تحریرمیں عبداللہ اعظم کا پاسپورٹ ضبط کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

      واضح رہے کہ حال ہی میں بھومافیا اعلان ہونے کے بعد اعظم خان کو کئی جھٹکے لگے۔ ان کے خلاف زمین انکروچمنٹ آف لینڈ کے 27 معاملے درج کئے گئے۔ دوسری طرف رامپور ضلع انتظامیہ نے جوہرٹرسٹ کو لیز پردی گئی 2 عمارتوں- مدرسہ عالیہ اوردارالعوام کی لیز کو منسوخ کرنے کی سفارش انتظامیہ سے کی ہے۔ اس کے بعد بی جے پی کی خاتون رکن پارلیمنٹ پرکئےگئے تبصرہ کے لئے اعظم خان کے خلاف ہنگامہ ہوگیا۔ یہاں تک کہ انہیں لوک سبھا میں اسپیکرکے سامنے معافی مانگنی پڑی۔
      First published: