உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اگر پگڑی حقِ انتخاب ہے تو حجاب کیوں نہیں؟ اداکارہ سونم کپور Sonam Kapoor نے کیا بڑا سوال

    سونم کپور (Sonam Kapoor)

    سونم کپور (Sonam Kapoor)

    حجاب کا تنازع اس وقت شروع ہوا جب اڈوپی کے ایک سرکاری کالج میں چھ لڑکیاں اپنے عقیدے کا حوالہ دیتے ہوئے اسکارف پہن کر آئیں تھیں، جنہیں طلبہ کے ایک حصے کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، جو زعفرانی اسکارف پہنے کالج میں داخل ہوئیں۔

    • Share this:
      سونم کپور (Sonam Kapoor) نے کرناٹک میں بڑھتے ہوئے حجاب کے تنازع پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہا کہ اگر پگڑی (Turban) حق انتخاب ہے تو حجاب (Hijab) کیوں نہیں؟ سونم کپور نے انسٹاگرام اسٹوریز پر ایک پوسٹ شیئر کی، جس میں ایک تصویری کولیج شامل ہے۔ بائیں طرف پگڑی میں ملبوس ایک آدمی کی تصویر ہے۔ جس کے نیچے لکھا ہے کہ ’’یہ انتخاب (choice) ہو سکتا ہے‘‘۔ تو دائیں طرف ایک خاتون ہے اور وہ حجاب پہنی ہوئی ہے۔ باحجاب خاتون کی تصویر کے نیچے لکھا ہوا ہے کہ ’’ایسا نہیں ہو سکتا؟‘‘

      حجاب کا تنازع اس وقت شروع ہوا جب اڈوپی کے ایک سرکاری کالج میں چھ لڑکیاں اپنے عقیدے کا حوالہ دیتے ہوئے اسکارف پہن کر آئیں تھیں، جنہیں طلبہ کے ایک حصے کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، جو زعفرانی اسکارف پہنے کالج میں داخل ہوئیں۔ اسی دوران کشیدگی بڑھ گئی کیونکہ احتجاج کرناٹک کے دیگر حصوں میں پھیل گیا۔ ایک کالج میں تشدد نے پولیس کو لاٹھی چارج کرنے پر مجبور کیا۔

      اس کے بعد کرناٹک حکومت نے ہائی اسکولوں اور پری یونیورسٹی کالجوں کے لیے بدھ سے تین دن کی تعطیل کا اعلان کیا تاکہ کیمپس میں مزید کسی قسم کی پریشانی اور ناخوشگوار واقعات سے بچا جا سکے۔

      تصویر انسٹاگرام: Sonam Kapoor


      اس وقت کرناٹک ہائی کورٹ تعلیمی اداروں میں حجاب کی پابندیوں کو چیلنج کرنے والی ایک عرضی پر سماعت کر رہی ہے۔ اپنے عبوری حکم میں عدالت نے کہا کہ ہم ریاستی حکومت اور دیگر تمام اسٹیک ہولڈرز سے تعلیمی اداروں کو دوبارہ کھولنے اور طلبا کو جلد از جلد کلاسوں میں واپس آنے کی اجازت دینے کی درخواست کرتے ہیں۔

      ان تمام درخواستوں پر غور کرنے کے بعد ہم تمام طلبا کو ان کے مذہب یا عقیدے سے قطع نظر زعفرانی شال (بھاگوا)، اسکارف، حجاب، مذہبی جھنڈے یا کلاس روم کے اندر، اگلے احکامات تک پہننے سے روکتے ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: