ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

وی وی آئی پی ہیلی کاپٹر سودا: سونیا نے تمام الزامات کو بتایا بے بنیاد، کہا، حکومت جانچ مکمل کرکے دکھائے

نئی دہلی۔ گیند کو بی جے پی کے پالے میں ڈالتے ہوئے کانگریس صدر سونیا گاندھی نے آج وی وی آئی پی ہیلی کاپٹر سودے کے تعلق سے اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات کو ’’پوری طرح بے بنیاد‘‘بتایا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Apr 27, 2016 02:47 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
وی وی آئی پی ہیلی کاپٹر سودا: سونیا نے تمام الزامات کو بتایا بے بنیاد، کہا، حکومت جانچ مکمل کرکے دکھائے
نئی دہلی۔ گیند کو بی جے پی کے پالے میں ڈالتے ہوئے کانگریس صدر سونیا گاندھی نے آج وی وی آئی پی ہیلی کاپٹر سودے کے تعلق سے اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات کو ’’پوری طرح بے بنیاد‘‘بتایا ہے۔

نئی دہلی۔  گیند کو بی جے پی کے پالے میں ڈالتے ہوئے کانگریس صدر سونیا گاندھی نے آج وی وی آئی پی ہیلی کاپٹر سودے کے تعلق سے اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات کو ’’پوری طرح بے بنیاد‘‘بتایا ہے اور حکومت کو چیلنج کیا ہے کہ وہ جلد از جلد اس معاملہ کی تحقیقات مکمل کرکے دکھائے۔ اس تنازعہ میں ان کا نام آنے اور راجیہ سبھا میں یہ معاملہ اٹھائے جانے کے بعد اپنے پہلے ردعمل میں مسز گاندھی نے کہا کہ کوئی ان کا نام لے وہ اس سے نہیں ڈرتیں۔


انہوں نے کہا ’’میں کہتی ہوں کہ تمام الزامات سراسر بے بنیاد ہیں ان میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ انہوں نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ یہ دو سال سے حکومت چلا رہے ہیں۔ انہیں اس معاملہ کی جانچ مکمل کرنے دیں ، سچائی سامنے آجائے گی۔


مسز گاندھی نے زور دے کر کہا کہ’’ہمارے پاس چھپانے کو کچھ نہیں‘‘ ۔ کئی کانگریسی مسز گاندھی کی حمایت میں آگے آگئے جبکہ راجیہ سبھا کے ممبر پارلیمنٹ سبرامنیم سوامی نے ایوان میں یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ کانگریس صدر کا نام اگسٹا ویسٹ لینڈ سودے میں رشوت کے الزامات میں اطالوی عدالت کی کارروائی میں سامنے آیا ہے۔ مسز گاندھی کے سیاسی سکریٹری احمد پٹیل، کانگریس ترجمان ٹام وڈاکوم، سینئر لیڈر آسکر فرنانڈیز اور پرمود تیواری نے بی جے پی کے الزامات کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ یو پی اے حکومت کے تحت اس کمپنی کو بلیک لسٹ کیا گیا تھا۔


انہوں نے کہا کہ یہ مودی حکومت تھی جس نے کمپنی کو بلیک لسٹ کرنے کے عمل کو منسوخ کیا تھا۔ بہوجن سماج پارٹی کی لیڈر مایاوتی نے مطالبہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ کی نگرانی میں اس معاملہ کی جانچ کرکے سچائی سامنے لائی جائے۔

First published: Apr 27, 2016 02:15 PM IST