ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سی اے اے- این آر سی پر اپوزیشن کی میٹنگ میں سونیا گاندھی کا بڑا الزام، وزیر اعظم مودی اور امت شاہ نے ملک کوکیا گمراہ

سونیا گاندھی نےکہا کہ حکومت ظلم و زیادتی اور نفرت پر اتر آئی ہے اور لوگوں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کیا جارہا ہے۔ ملک میں افرا تفری کی صورتحال بنی ہوئی ہے۔ آئین کو کمزور کیاجارہا ہے اور حکومت کی طاقت کا غلط استعمال ہورہا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Jan 13, 2020 07:04 PM IST
  • Share this:
سی اے اے- این آر سی پر اپوزیشن کی میٹنگ میں سونیا گاندھی کا بڑا الزام، وزیر اعظم مودی اور امت شاہ نے ملک کوکیا گمراہ
سونیا گاندھی کی قیادت میں پارلیمنٹ انیکسی میں اپوزیشن کی میٹنگ

نئی دہلی: کانگریس صدر سونیا گاندھی نے وزیراعظم نریندرمودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پر ملک کو گمراہ کرنےکا الزام لگاتے ہوئے پیرکو کہا کہ سماج کو مذہب کی بنیادپر تقسیم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سونیا گاندھی نے یہاں پارلیمنٹ ہاؤس-انیکسی میں کئی اپوزیشن پارٹیوں سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ وزیراعظم اور وزیر داخلہ کے بیانوں میں تضاد ہے اور دونوں مل کر ملک کے عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔ دونوں مسلسل اکساوے والے بیانات دے رہے ہیں اور تشدد اور ظلم کے تئیں غیر حساس بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے یونیورسٹیوں میں ہوئے تشدد کا ذکر کرتے ہوئےکہا کہ مودی- شاہ کی حکومت کی نااہلی ثابت ہوگئی ہے اور یہ حکومت چلانےکےقابل نہیں ہیں۔ موجودہ حکومت لوگوں کو سکیورٹی مہیا کرانے میں ناکام رہی ہے۔ سونیا گاندھی نے یہ باتیں اپوزیشن جماعتوں کی میٹنگ میں کہیں۔


کانگریس صدر سونیا گاندھی نےکہا کہ آسام میں این آر سی ناکام ثابت ہوا ہے۔حکومت اب قومی آبادی رجسٹر (این پی آر ) پرتوجہ مرکوز کررہی ہے، جو قومی سطح پر این آر سی سے پہلےکا عمل ہے۔ انہوں نےکہا کہ مخالفت کی فوری وجہ سی اے اے اور این آر سی ہے، لیکن سماج کی وسیع سطح پر اشتعال دکھایا جارہا ہے۔ انہوں نےکہا کہ اصلی موضوع معیشت کی گرتی حالت اور اقتصادی ترقی کی شرح کا سست پڑنا ہے۔سماج کے غریب اور محروم طبقےکو نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ وزیراعظم اور وزیرداخلہ کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے اور ملک کی توجہ ہٹانے کے لئے تقسیم اور پولرائیزیشن پر مبنی سیاست کررہے ہیں۔


سونیا گاندھی نےکہا کہ حکومت ظلم و زیادتی اور نفرت پر اتر آئی ہے اور لوگوں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کیا جارہا ہے۔ ملک میں افرا تفری کی صورتحال بنی ہوئی ہے۔ آئین کو کمزور کیاجارہا ہے اور حکومت کی طاقت کا غلط استعمال ہورہا ہے۔ اترپردیش اور دہلی میں پولیس کے ذریعہ طاقت استعمال کرنےکا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نوجوانوں اور طلبہ کو خاص طورپر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ آبادی کے ایک بڑے حصے کا استحصال کیا جارہا ہے اور ان کے ساتھ زیادتی کی جارہی ہے۔شہریوں کے تعاون سے ملک بھر میں نوجوان احتجاجی مخالفت کر رہے ہیں۔


سونیا گاندھی کے ذریعہ بلائی گئی میٹنگ میں ممتا بنرجی اور مایاوتی نہیں شامل ہوئیں۔ فائل فوٹو


میٹنگ کی صدارت کانگریس صدر سونیا گاندھی نے کی اور اس میں سابق وزیراعظم منموہن سنگھ اور پارٹی کے سابق صدر راہل گاندھی، غلام نبی آزاد، اےکے انٹونی، احمد پٹیل اور کے سی وینوگوپال موجودتھے۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے شرد پوار اور پرفل پٹیل، مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے سیتارام یچوری،جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے ہیمنت سورین، راشٹریہ جنتا دل کے منوج جھا، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے ڈی راجہ ،لوک تانترک جنتا دل کےشردیادو، انڈین یونین مسلم لیگ کے پی کےکنہا لی کٹی، ریوولیوشنری سوشلسٹ پارٹی کے شتروجیت سنگھ، کیرالہ کانگریس کے ایم تھامس کا جھیکدن، آل انڈیا ڈیموکریٹک فرنٹ کے سراج الدین اجمل، نیشنل کانفرنس کے حسنین مسعودی، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے میر محمد فیاض،جنتا دل سیکولرکے ڈی کوپیندر ریڈی، راشٹریہ لوک دل کے اجیت سنگھ، ہندوستانی عوامی مورچہ کے جیتن رام مانجھی، راشٹریہ لوک سمتا پارٹی کے اوپیندر کشواہا، سوابھیمان پکش کے راجو شیٹی،فارورڈ بلاک کے جی دیوراجن اور ویدوتھلائی چروتھائیگل کاچی کے تھول تروماولاون نے بھی میٹنگ میں حصہ لیا۔ میٹنگ میں شیوسینا ،عام آدمی پارٹی،ترنمول کانگریس،دروڑ منیتر کشگم ،سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کے نمائندے موجود نہیں تھے۔
First published: Jan 13, 2020 06:53 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading