ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

شاہین باغ مظاہرین سے آج ملاقات کر سکتے ہیں سنجے ہیگڑے: ذرائع

دہلی کے شاہین باغ میں پچھلے 66 دنوں سے احتجاجی مظاہرہ مسلسل جاری ہے۔ احتجاج کر رہے لوگ سی اے اے اور این آر سی کی مخالفت کر رہے ہیں۔

  • Share this:
شاہین باغ مظاہرین سے آج ملاقات کر سکتے ہیں سنجے ہیگڑے: ذرائع
نئی دہلی کے شاہین باغ میں خاموش احتجاج کے دوران خواتین اور بچوں نے پلے کارڈ اٹھا رکھے ہیں: فائل فوٹو

نئی دہلی۔ سپریم کورٹ (Supreme Court)  میں شاہین باغ (Shaheen Bagh) میں شہریت ترمیمی قانون (CAA) کے خلاف احتجاج کر رہے مظاہرین کو ہٹانے کی عرضیوں پر سماعت کے بعد آج سنجے ہیگڑے اور سادھنا رام چندرن آج یعنی بدھ کو شاہین باغ جا سکتے ہیں۔ جہاں سنجے وجاہت حبیب اللہ سے بات کریں گے۔ بتا دیں کہ سپریم کورٹ کا حکم جاری ہونے کے بعد سنجے ہیگڑے نے وجاہت حبیب اللہ سے بات چیت نہیں کی ہے۔ حکم کے مطابق، سپریم کورٹ نے وجاہت حبیب اللہ کو مظاہرین سے بات کرنے کے لئے کہا ہے۔ لیکن سنجے ہیگڑے اس معاملہ میں اہم مذاکرات کار ہیں جس کے مدنظر وہ اور سادھنا ایک ساتھ شاہین باغ جا سکتے ہیں۔ وجاہت حبیب اللہ نے نیوز 18 انڈیا کو بتایا کہ وہ مذاکرات کی پہل کرنے کا انتظار کر رہے ہیں۔


وہیں، پیر کے روز دیر شام دلی پولیس کے افسران نے سنجے ہیگڑے سے ملاقات کی۔ بتایا جا رہا ہے کہ میٹنگ میں خود دلی پولیس، سنجے ہیگڑے سے ملنے گئی تھی۔ جہاں دلی پولیس نے شاہین باغ مظاہرہ گاہ کو لے کر اپنے مشورے سنجے ہیگڑے سے شئیر کئے۔ انہوں نے بتایا کہ پچھلے دو مہینے میں احتجاج کے مدنظر کن کن دقتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔


دہلی کے شاہین باغ میں پچھلے 66 دنوں سے احتجاجی مظاہرہ مسلسل جاری ہے۔


بتا دیں کہ سپریم کورٹ نے 8 فروری کو دہلی الیکشن کو دھیان میں رکھتے ہوئے شاہین باغ میں چل رہے احتجاج کو لے کر دائر عرضی پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ وہ اس معاملہ کی سماعت دہلی الیکشن کے بعد کرے گی۔

دہلی کے شاہین باغ میں پچھلے 66 دنوں سے احتجاجی مظاہرہ مسلسل جاری ہے۔ احتجاج کر رہے لوگ سی اے اے اور این آر سی کی مخالفت کر رہے ہیں۔ نریندر مودی حکومت نے پچھلے سال 12 دسمبر کو پارلیمنٹ سے سی اے اے پاس کرایا تھا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت سی اے اے اور این آر سی کو واپس لینے کا فیصلہ نہیں کرتی ہے تب تک وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔
First published: Feb 19, 2020 10:49 AM IST