உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر شفیق الرحمٰن برق کے لڑکیوں کی شادی کے تعلق سے بیان پر وضاحت: جانیں کیا کہا؟

    Youtube Video

    انہوں نے کہا، لڑکیوں کے شادی کے سلسلے میں دئے گئے بیان کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا لڑکیاں چودہ سال میں ہی بالغ ہو جاتی ہیں لہذا اکیس سال تک نہیں رکنا چاہئے چونکہ ہندستان غریب ملک ہے اور سبھی گھر والے بھی چاہتے ہیں کے وہ اپنے فریضے کو وقت پر انجام دیں۔

    • Share this:
    سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر شفیق الرحمٰن برق نے اپنے دیے گئے متنازعہ بیان پر صفائی پیش کی ہے ۔ انہوں نے کہا، لڑکیوں کے شادی کے سلسلے میں دئے گئے بیان کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا لڑکیاں چودہ سال میں ہی بالغ ہو جاتی ہیں لہذا اکیس سال تک نہیں رکنا چاہئے چونکہ ہندستان غریب ملک ہے اور سبھی گھر والے بھی چاہتے ہیں کے وہ اپنے فریضے کو وقت پر انجام دیں۔ بتادیں کہ مرکزی کابینہ (Modi Cabinet) نے لڑکیوں کی شادی (Girls age for marriage) کی عمر میں اضافے کی تجویز کو منظوری دے دی ہے۔ خیال رہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعے کی فصیل سے دوہزار بیس میں اس حوالے سے اعلان کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ قوت بخش تغذیہ کی کمی بیٹیوں کو بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ان کی شادی مناسب وقت پر ہو۔ ذرائع کے مطابق اب مرکزی حکومت موجودہ قانون میں ترمیم کرے گی۔ کابینہ نے اس معاملے پر تشکیل دی گئی ٹاسک فورس کی سفارشات پریہ فیصلہ لیا ہے۔ غور طلب ہے کہ مرکزی حکومت (Modi Cabinet) لڑکیوں کی شادی (Girls age for marriage)کی عمر 18 سال سے بڑھا کر 21 سال (Women Marriage legal age) کرنے کے لئے قانون لارہی ہے۔ مرکزی کابینہ نے بدھ کو خواتین کے لئے شادی کی قانونی عمر 18 سے 21 سال تک بڑھانے کی تجویز کو منظوری دے دی ہے۔ اس کے لئے حکومت موجودہ قوانین میں ترمیم کرے گی۔ حالانکہ، ابھی قانون بننے سے پہلے ہی اس تجویز کی مخالفت ہونے لگی ہے۔ مسلم تنظیم جمعیۃ علمائے ہند کے سکریٹری گلزار اعظمی نے کہا ہے کہ وہ اسے تسلیم نہیں کریں گے۔

    انہوں نے نیوز-18 سے بات چیت میں کہا کہ حکومت کا یہ فیصلہ پوری طرح سے غلط ہے۔ بالغ کی عمر 18 سے تو شادی کی عمر 21 کیسے ہوسکتی ہے۔ اگر لڑکا۔لڑکی دونوں بالغ ہیں مطلب 18 سال کے ہیں تو لڑکی عمر 21 کیوں ہونی چاہیے۔ اس سے لڑکیاں غلط راہ پر چلی جائیں گی۔ یہ بالکل غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے مذہب میں لڑکا 14-15 سال میں ہی بالغ ہوجتا ہے، ہم نہیں مانیں گے یہ قانون۔ وہیں اسلامک اسکالر خان محمد آصف نے کہا کہ اسلام میں سن بلوغت کے بعد شادی کی اجازت ہے لیکن حکومت یہ جو قانون لانا چاہتی ہے وہ صرف اسلام کی بات نہیں ہے۔ ہر مذہب کے لوگوں کو دیکھ کر قانون لانا چاہیے کہ لڑکی کا ڈراپ آوٹ ریٹ کیا ہے۔ کتنا ایمپلائمنٹ ہے۔ اس کے بعد حکومت قانون لاتی ہے تو کسی کو مخالفت نہیں کرنا چاہیے۔

    وہیں ایودھیا میں بابری مسجد کے سابق فریق اقبال انصاری نے کہا کہ سب اپنے اپنے گھروں میں چاہتے ہیں کہ جلد سے جلد شادی بیاہ کرکے نمٹ لیں، لیکن حکومت اب جو کررہی ہے ٹھیک ہی کررہی ہے۔ پہلے سے سماج میں ایک روایت بنی ہوئی ہے لیکن، اب حکومت نے کچھ سوچا ہوگا، اس لئے یہ کررہی ہے۔ اس کے علاوہ مہنت ہنومان گڑھی مندر کے مہنت راجو داس نے کہا کہ سناتن دھرم کو آگے بڑھانے کے لئے مودی سرکار سب کچھ کررہی ہے۔ صرف سناتن دھرم ہی نہیں مسلم مذہب کے غلط رواجوں کو بھی مودی حکومت ہٹا رہی ہے، جیسے تین طلاق، بچوں کی شادی، ان سب پر پابندی لگانے کے لئے 21 سال کرنا ٹھیک ہے۔

    بتادیں کہ اس تجویز کو کیبنٹ کی منظوری کے بعد حکومت چائلڈ میریج ایکٹ 2006 میں ایک ترمیم پیش کرے گی اور اس کے نتیجے میں، اسپیشل میریج ایکٹ اور ہندو میریج ایکٹ 1955 جیسے قوانین میں ترمین کرے گی۔ بدھ کو دی گئی منظوری دسمبر 2020 میں جیا جیٹلی کی صدارتی والی مرکز کی ٹاسک فورس کی جانب سے نیتی آیوگ کو سونپی گئی سفارشوں پر منحصر ہے۔

    قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: