ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

پٹھان کوٹ حملے سے پہلے اغوا ایس پی کی آپ بیتی،کہا، میں مشکوک نہیں

نئی دہلی۔ پٹھان کوٹ ائیر بیس پر حملے سے پہلے دہشت گردوں نے جس ایس پی کو اغوا کر ان کی گاڑی چھینی تھی، انہوں نے آپ بیتی سنائی ہے۔

  • IBN7
  • Last Updated: Jan 05, 2016 04:06 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
پٹھان کوٹ حملے سے پہلے اغوا ایس پی کی آپ بیتی،کہا، میں مشکوک نہیں
نئی دہلی۔ پٹھان کوٹ ائیر بیس پر حملے سے پہلے دہشت گردوں نے جس ایس پی کو اغوا کر ان کی گاڑی چھینی تھی، انہوں نے آپ بیتی سنائی ہے۔

نئی دہلی۔ پٹھان کوٹ ائیر بیس پر حملے سے پہلے دہشت گردوں نے جس ایس پی کو اغوا کر ان کی گاڑی چھینی تھی، انہوں نے آپ بیتی سنائی ہے۔ ایس پی نے ایسے کئی چونکانے والے انکشافات کئے ہیں جن سے انٹیلی جنس ایجنسیوں کی نیند اڑ گئی ہے۔ سلوندر سنگھ نے کہا کہ فوج کی وردی میں آئے دہشت گردوں نے ان کے اور ان کے دوستوں کو جمعرات دیر رات اغوا کیا  تھا۔ دہشت گردوں نے بعد میں، ایس پی سلوندر سنگھ اور ان کے کک کو چھوڑ دیا لیکن ان کی کار لے گئے۔ آئی بی این ۷ سے بات چیت میں ایس پی سلوندر سنگھ نے بتایا کہ چار پانچ دہشت گردوں نے ان کی گاڑی روکی اور انہیں اغوا کر لیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ دہشت گرد فوج کی وردی میں تھے اور ان کے پاس اے کے 47 تھی۔ گاڑی میں ایس پی کے ایک دوست (جو گاڑی بھی چلا رہے تھے) اور کک بھی تھا، دہشت گردوں نے رائفل ان کے سر پر لگا رکھی تھی اور ایس پی اور ان کے ساتھیوں سے مارپیٹ کی۔


سلوندر نے آپ بیتی سناتے ہوئے کہا کہ جس وقت یہ واقعہ ہوا اس وقت وہ نئے سال کے موقع پر اپنے ایک دوست کے ساتھ مزار پر پیشانی ٹیکنے گئے تھے۔ اس وجہ سے ان کے ساتھ کوئی سیکورٹی اور ان کا سرکاری ہتھیار بھی نہیں تھا۔ اگر میرے پاس ہتھیار ہوتا تو دہشت گردوں سے لوہا لیتا۔ ایس پی نے کہا کہ وہ متاثرہ ہیں، مشکوک نہیں۔


ایس پی نے بتایا کہ دہشت گردوں نے ان کا فون بھی استعمال کیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ دہشت گرد ہندی اور اردو میں بات کر رہے تھے۔ دہشت گردوں نے پاکستان بھی بات چیت کی لیکن اردو نہ سمجھ پانے کی وجہ سے وہ یہ نہیں جان سکے کہ دہشت گردوں نے کیا بات چیت کی۔ ایس پی نے بتایا کہ دہشت گرد جی پی آر ایس کا استعمال کر رہے تھے۔ ایس پی اور ان کے دوست نے یہ بتایا۔ ایس پی نے کہا کہ انہوں نے ہم سے راستہ نہیں پوچھا۔


ایس پی نے کہا کہ دہشت گردوں نے ان کی آنکھ پر پٹی باندھ دی تھی۔ گاڑی چھیننے کے بعد انہوں نے ان سے اور ان کے کک سے اگلی صبح تک وہیں رہنے کو کہا۔ دہشت گردوں نے کہا کہ اگر وہ وہاں سے گئے تو وہ انہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے۔ ایس پی نے کہا کہ دہشت گرد نہیں جانتے تھے کہ انہوں نے ایک ایس پی کی گاڑی اغوا کی ہے۔

ایس پی نے کہا کہ دہشت گردوں نے ان کا موبائل (ایس پی کے بیٹے کا تھا) چھین لیا۔ ایس پی نے انکشاف کیا ہے کہ دہشت گرد انہیں گاڑی سمیت اغوا کرکے لے جا رہے تھے تب پولیس نے ایک ناکے پر گاڑی روکی تھی۔ گاڑی کی باہر سے جانچ بھی کی تھی، لیکن مناسب طریقے سے تلاشی نہیں لی۔ وہاں ایک دہشت گرد نے پولیس سے ایئر فورس بیس کا پتہ بھی پوچھا تھا۔

ایس پی کے دوست راجیش ورما کے مطابق، اغوا ایس پی سلوندر سنگھ کو اكال گڑھ کے پاس چھوڑ کر جب دہشت گرد آگے بڑھ رہے تھے تب گاڑی چلا رہے ایس پی کے دوست راجیش ورما کا ہاتھ ہوٹر پر لگ گیا، جس سے ہوٹر بج پڑا۔ جس وقت ہوٹر بجا، اس وقت دہشت گرد ایس پی کے فون سے ہی پاکستان میں واقع اپنے آقا سے بات کر رہے تھے۔

ایس پی نے بتایا کہ تمام دہشت گرد 18 سے 22 سال کی عمر کے تھے۔ ان کی ٹریننگ اتنی پختہ تھی کہ وہ پل بھر میں گاڑی کی نیلے رنگ کی روشنی اتارتے تھے اور چڑھاتے تھے۔ دہشت گردوں نے راجیش سے پوچھا کہ گاڑی کس کی ہے۔ ایس پی کیا ہوتا ہے؟ پھر پوچھا، کہیں ڈی ایس پی کو تو نہیں کہا جاتا؟ ورما نے کہا، ہاں۔ اس پر دہشت گردوں نے ورما کو گاڑی تیز چلانے کی ہدایت دی۔

دہشت گردوں نے راجیش ورما سے کہا کہ ہم نے تمہارے دوستوں سے اگلی صبح تک یہیں رہنے کو کہا تھا لیکن انہوں نے ہمیں دھوکہ دے دیا۔ اب اس کی سزا تمہیں بھگتنی ہوگی۔ یہ کہہ کر دہشت گردوں نے راجیش ورما کا گلا کاٹ دیا اور انہیں مردہ حالت میں چھوڑ کر چلے گئے۔ راجیش ورما نے اس کے بعد پاس کے گاؤں جاکر مدد لی اور اپنے سسر کو فون کیا۔

 
First published: Jan 05, 2016 04:04 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading