உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دہشت گردوں اور دراندازوں سے نمٹنے کےلئے خصوصی کمیٹی کی تشکیل

    دہشت گردوں اور دراندازوں کے خلاف فوراً کارروائی کے لئے مختلف ایجنسیوں کے درمیان تال میل میں اضافے اور انہیں فوری طور پر حرکت میں لانے کے مقصد سے مختلف ریاستوں میں ایک کمیٹی قائم کی جا رہی ہے۔

    دہشت گردوں اور دراندازوں کے خلاف فوراً کارروائی کے لئے مختلف ایجنسیوں کے درمیان تال میل میں اضافے اور انہیں فوری طور پر حرکت میں لانے کے مقصد سے مختلف ریاستوں میں ایک کمیٹی قائم کی جا رہی ہے۔

    دہشت گردوں اور دراندازوں کے خلاف فوراً کارروائی کے لئے مختلف ایجنسیوں کے درمیان تال میل میں اضافے اور انہیں فوری طور پر حرکت میں لانے کے مقصد سے مختلف ریاستوں میں ایک کمیٹی قائم کی جا رہی ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی: دہشت گردوں اور دراندازوں کے خلاف فوراً کارروائی کے لئے مختلف ایجنسیوں کے درمیان تال میل میں اضافے اور انہیں فوری طور پر حرکت میں لانے کے مقصد سے مختلف ریاستوں میں ایک کمیٹی قائم کی جا رہی ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق سرحدوں کی حفاظت کو پختہ اور یقینی بنانے کے لئے ہر ریاست میں مجموعی طور پر سرحدی سلامتی گرڈ تیار کیا جائے گا۔ دراندازی یا دہشت گردانہ سرگرمیوں کی ٹھوس اطلاع ملتے ہی مختلف ایجنسیوں کے درمیان بہتر تال میل کرکے فوری طورپر کارروائی کے لئےریاستوں میں چیف سکریٹری کی صدارت میں ایک مستقل کمیٹی قائم کی جا رہی ہے۔
      اس گرڈ کے تحت سیکورٹی فورسز کی تعیناتی سے لے کر آپریشن کے مقرر عمل کو بیان کیا جائے گا تاکہ دہشت گرد انہ سرگرمیوں کی اطلاع ملتے ہی سرحدی سلامتی فورس، ریاستی پولیس اور فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے درمیان رابطہ قائم کرکے فوراً کارروائی کی جا سکے۔ اس قسم کی منصوبہ بندی کوعمل میں لانے اور وقتاً فوقتاً اس کا جائزہ لینے کے لئے ایک ادارہ جاتی نظام کی ضرورت کے پیش نظر اس کمیٹی کا قیام کیا جا رہا ہے۔ اس میں ہر ریاست کے گرڈ اور مختلف ایجنسیوں کے کردار مختلف ہوں گے۔
      گرڈ میں تاربندي سے پہلے سرحد پر فوجیوں اور سیکورٹی آلات اور نظام کو تعینات کرنا بھی شامل ہوں گا۔ اس کے علاوہ ادارہ جاتی نظام، ریاستی پولیس، فوج، خفیہ ایجنسیاں اور ریاستی حکومت کی مختلف ایجنسیاں بھی اس کا حصہ ہوں گی۔
      اس وقت پاکستان سے متصل 2289.66 کلومیٹر کی رینج میں سے 2034.96 پر تاربندي، پل وغیرہ کی سیلنگ، سڑک، فلڈلائٹ اور بارڈر آوٹ پوسٹ جیسے اقدامات کئے گئے ہیں۔باقی بچی 254.80 کلومیٹر کی حد کو مندرجہ بالا اقدامات اور سیکورٹی آلات کے تعینات کرنے کے ساتھ مکمل طور سیل کر دیا جائے گا۔ یہ کام دسمبر 2018 تک مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
      اس 254.80 کلومیٹر سرحد میں سے 72.95 پر تاربندي اور بنکر بنانے جیسے اقدامات کئے جائیں گے جبکہ 181.85 کلومیٹر میں کیمرے، سینسر، ریڈار، اور لیزر جیسے تکنیکی آلات لگانے کی تجویز ہے۔اس سرحدی حصے میں دریا، نالوں اور دلدلی علاقے ہونے کی وجہ سے سکیورٹی دستے تعینات کرنا یا بنکر جیسے ٹھوس اقدامات کرنا ممکن نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق بی ایس ایف جموں، پنجاب اور گجرات میں پائلٹ پروجیکٹ کے تحت سکیورٹی آلات کی ٹیکنولوجی کی جانچ کر رہی ہے۔
      جموں کشمیر میں 9.65 کلومیٹر، پنجاب میں 10.37 کلومیٹر اور راجستھان میں 1.60 کلو میٹر اور گجرات میں 233.18 کلومیٹر کی سرحد کو سیل کیا جانا باقی ہے۔ اس وقت پاکستان سے متصل 2289.66 کلومیٹر کے بین الاقوامی سرحد کی نگرانی وزارت داخلہ اور 10.5 کلومیٹر کی وزارت دفاع کر رہا ہے۔
      First published: