உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اٹل بہاری کا درگاہ حضرت نظام الدین سے تھا خاص تعلق، پڑھیں تفصیلات

    واجپئی 1978 میں پہلی بار درگاہ حضرت نظام الدین آئے تھے، اس کے بعد سے ان کا جو تعلق درگاہ سے پیدا ہوا، وہ کبھی بھی نہیں ٹوٹا۔

    واجپئی 1978 میں پہلی بار درگاہ حضرت نظام الدین آئے تھے، اس کے بعد سے ان کا جو تعلق درگاہ سے پیدا ہوا، وہ کبھی بھی نہیں ٹوٹا۔

    واجپئی 1978 میں پہلی بار درگاہ حضرت نظام الدین آئے تھے، اس کے بعد سے ان کا جو تعلق درگاہ سے پیدا ہوا، وہ کبھی بھی نہیں ٹوٹا۔

    • Share this:
      سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کا یکجہتی اور اتحاد کے لئے جانے والی درگاہ حضرت نظام الدین سے خاص تعلق تھا۔ واجپئی 1978 میں پہلی بار درگاہ آئے تھے، اس کے بعد سے ان کا جو تعلق درگاہ سے پیدا ہوا، وہ کبھی بھی نہیں ٹوٹا۔

      وزیراعظم بننے سے قبل خود درگاہ جایا کرتے تھے اور وزیراعظم بننے کے بعد ان کی چادر درگاہ آتی تھی اور لنگر غریبوں میں تقسیم ہوتا تھا، ان کے بیمار ہونے کے بعد سے درگاہ حضرت نظام الدین میں ان کی صحت کے لئے مسلسل دعا ہورہی تھی۔

      اس سلسلے میں نیوز 18 اردو نے  اٹل جی سے تعلق رکھنے والے سجادہ نشین فدا نظامی سے بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ سابق وزیراعظم کی طرف سے ان کی ولادت کے موقع پران کی طرف سے چادریں پیش کی جاتی تھیں۔  یا پھر جب بھی  وہ بیمار ہوجاتے

      1.

      انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی تاریخ میں بہت کم ایسے سیاستداں ہوئے ہیں، اس لئے درگاہ میں ان کے لئے مسلسل دعائیں کی جاتی تھیں تاکہ وہ روبہ صحت رہیں۔  سجادہ نشیں فدا نظامی نے بتایا کہ وزیراعظم بننے سے قبل ان کا جو رشتہ درگاہ سے تھا وہ رشتہ ہمیشہ برقرار رہا۔ کیونکہ پروٹوکول کی وجہ سے ان کو یہاں آنے کی اجازت نہیں تھی، لیکن وہ اپنے نمائندوں کو ضرور بھیجتے تھے۔

      2.

      سجادہ نشین نے امید کا اظہار کرتے ہوئے اٹل بہاری واجپئی جیسی محبت اور بھائی چارہ والا شخص دوبارہ آئے گا اور درگاہ سے اس کا بھی رشتہ بنا رہے گا۔
      First published: