ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

محرم کے بغیرحج پر جانے والی خواتین کے لئے خاتون خادم الحجاج بھی جائیں گی ساتھ

وزارت برائے اقلیتی امور، حکومت ہند اور حج کمیٹی آف انڈیا نے خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے بغیر محرم کے حج پر جانے کا جو فارمولہ تیار کیا ہے، اب اس کے لئے خاص انتظام بھی کیا ہے۔شرعی حیثیت سے حکومت اور حج کمیٹی کا فیصلہ کتنا درست ہے، اس پر بھی تمام علمائے کرام کا اتفاق نہیں ہے۔

  • Share this:
محرم کے بغیرحج پر جانے والی خواتین کے لئے خاتون خادم الحجاج بھی جائیں گی ساتھ
فائل فوٹو

وزارت برائے اقلیتی امور، حکومت ہند اور حج کمیٹی آف انڈیا نے خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے بغیر محرم کے حج پر جانے کا جو فارمولہ تیار کیا ہے، اب اس کے لئے خاص انتظام بھی کیا ہے۔شرعی حیثیت سے حکومت اور حج کمیٹی کا فیصلہ کتنا درست ہے، اس پر بھی تمام علمائے کرام کا اتفاق نہیں ہے۔

حج کمیٹی 2018کی نئی پالیسی کے تحت حکومت نے بغیر محرم کے جانے والی خواتین بطور خادم الحجاج جانے والی خواتین سے درخواستیں طلب کی ہیں تاکہ وہاں جاکر وہ خاتون عازمین حج کی خدمت انجام دے سکیں۔ حالانکہ یہ پہلا موقع ہوگا، اس سے قبل خواتین خادم الحجاج کو نہیں بھیجاجاتا تھا۔ صرف خاتون ڈاکٹر اور خاتون نرس کو ہی جانے کی اجازت ہوتی تھی۔

قابل ذکر ہے کہ وزارت برائے اقلیتی امور، حکومت ہند نے اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ وہ خواتین جن کے مسلک میں بغیر محرم کے حج پر جانے کی اجازت ہے، وہ اب بغیر محرم کے حج پر جا سکتی ہیں۔ اس کے لئے جو خاتون خادم الحجاج جانا چاہتی ہیں، ان سے 20 اپریل تک آن لائن درخواستیں بھی طلب کی گئی ہیں۔ اس کے بعد اقلیتی وزارت کی جانب سے انٹرویو لیاجائے گا اور پھر یہ خاتون خادم الحجاج کو دو تین ماہ کے لئے جدہ اور سعودی عرب میں تعینات کیا جائے گا، جو وہاں خواتین عازمین حج کی خدمت کریںگے۔

وزارت برائے اقلیتی امور، حکومت ہند اور حج کمیٹی آف انڈیا کے اس فیصلے کی کچھ لوگ حمایت کر رہے ہیں تو کچھ لوگ اسے غلط روایت بتا تے ہوئے اسلام میں مداخلت قرار دیاہے۔ حنفی مسلک اور اہل حدیث میں عورت کو اکیلے حج پر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ اس لئے ہی ان دونوں مسلک کے علمائے کرام اور ان کے ماننے والے اس کی مخالفت کررہے ہیں۔ حالانکہ شیعہ طبقہ اور جنوبی ہندوستان میں اس بات کی اجازت ہے اور وہاں کی خاتون بغیر محرم کے حج کے فرائض انجام دے سکتی ہیں۔

اس سلسلے میں حج کمیٹی آف انڈیا کے رکن اور بی جے پی اقلیتی مورچہ کے نائب صدر محمد عرفان نے بتایا کہ حج کمیٹی آف انڈیا اور اقلیتی وزارت نے ان خواتین کو حج کرنے کا موقع فراہم کیا ہے، جو محرم نہ ہونے کی وجہ سے حج پر جانے سے محروم رہتی تھیں۔ اب سب کو حق مل رہا ہے اور جن کے مسلک جانے کی  اجازت دیتے ہیں، وہ خواتین جا رہی ہیں۔ہماری حکومت اور حج کمیٹی آف انڈیا نے کسی کے ساتھ زبردستی نہیں کی ہے اور ہم نے صرف خواتین کے لئے درخواستیں طلب کی ہیں۔

اس سلسلے ميں مفتي مکرم احمد نے کہا کہخواتین کو فرائض حج کی ادائیگی کے لئے جو مسلک اکیلے جانے کی اجازت دیتے ہیں، وہ بالکل جا سکتی ہیں، کسی پر کوئی دباؤ نہیں ہے، اس میں کسی پر کوئی دبائو نہیں بنایاگیا ہے، لہٰذا اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ہاں حج کے لئے جو شرائط ہیں، ان شرطوں کو پورا کرنا ضروری ہے۔
جماعت اہلحد یث کے عالم مولانا محمد رحمانی مدنی کا کہنا ہے کہ بغیر محرم کے خاتون کو حج پر جانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، یہاں تک کہ خواتین کے گروپ میں بھی انہیں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ اب جب اسلام میں اس بات کی اجازت نہیں ہے، تو پھر کسی قسم کی بات کرنا قطعاً درست نہیں ہے۔  شیعہ عالم دین مولانا کلاب جواد کہتے ہیں کہ شیعہ مسلک میں خواتین اکیلے جا سکتی ہیں، ہمارے یہاں کوئی ممانعت نہیں ہے، ہاں پردے وغیرہ کی جو شرائط ہیں، اس کا اہتمام کیا جانا چاہئے۔
حج کمیٹی آف انڈیا کے سابق ایگزیکٹو افسر شبیہ احمد نے کہا کہ یہ پہلی بار ہو رہا ہے، لیکن اس میں کچھ بھی غلط نہیں ہے۔ پہلے بھی اس معاملے میں کوئی ممانعت نہیں تھی۔ اصل معاملہ نیت کا ہے، لہٰذا جو لوگ ڈیوٹی پر جاتے ہیں، مطلب خادم الحجاج کے طور پر جاتے ہیں، ان کو حج سے دور رکھنا چاہئے۔ ہم پہلے ہی ایسا کرنے کے حق میں تھے۔ دہلی حج کمیٹی کے سابق صدر ڈاکٹر پرویز میاں نے کہا کہ اسلام نے خواتین کو محرم کے بغیر حج پرجانے کی اجازت نہیں دی ہے، لہٰذا حکومت اور وزارت برائے اقلیتی امور نے غلط فیصلہ کیا ہے، اسے قبول نہیں کیا جاسکتا ہے۔
دہلی حج کمیٹی کے ایگزیکٹو افسر اشفاق عارفی نے کہا کہ ایسا نظم پہلے نہیں تھا، یہ پہلا موقع ہے کہ خواتین بغیر محرم کے حج پر جائیںگی۔ اس کےلئے چار چار خواتین کا گروپ بنایا گیا ہے، جو گروپ میں ہوں گی، انہیں کو بھیجا جائے گا، لیکن دہلی حج کمیٹی میں کسی گروپ نے درخواست نہیں دی ہے، اس لئے دہلی سے بغیر محرم کے کوئی خاتون حج پر نہیں جائیں گی۔اس معاملے میں مختلف مسالک کے مختلف فتاوےموجود ہیں، لہٰذا اس پر کچھ بھی کہنا بہت مشکل ہے۔
واضح رہے کہ اب تک محرم کے بغیر خواتین حج پر نہیں جاتی تھیں اور خاتون ڈاکٹر اور خاتون نرس کے علاوہ خواتین خادم الحجاج بھی نہیں ہوتی تھیں، لیکن حج پاليسي 2018 کے آنے کے بعد اب اقلیتی وزارت اور حج کمیٹی آف انڈیا نے بغیر محرم کے خواتین کو گروپ میں بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس بار تقریباً 1300 خواتین بغیر محرم کے حج کا سفر کریںگی۔ انہیں خواتین کی خدمت کے لئے اقلیتی وزارت اور حج کمیٹی نے خواتین کی ٹیم کو بطور خادم الحاج بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

نثار احمد خان کی رپورٹ
First published: Apr 19, 2018 11:31 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading