ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

بشر سے شجر تک ، منیش بابا کی خدمتِ خلق ، منیش بابا سے پیار کرتے ہیں پیڑ

گزشتہ پندرہ سال میں بابا نے ہزاروں پیڑ لگائے ، کچھ نذر خزاں ہوگئے، کچھ ماحول کی آلودگی اور کثافت کے سبب اپنے آپ میں سمٹ کر موجودہ عہد کی مذموم فضا دیکھنے کو تیار نہیں ہوئے لیکن سیکڑوں پیڑ سر سبز و شادابی کی منزلیں طے کرتے ہوئے تناور درختوں میں تبدیل ہوگئے ۔

  • Share this:
بشر سے شجر تک ، منیش بابا کی خدمتِ خلق ، منیش بابا سے پیار کرتے ہیں پیڑ
بشر سے شجر تک ، منیش بابا کی خدمتِ خلق ، منیش بابا سے پیار کرتے ہیں پیڑ

سبق ہمیں یہ تمہارا جنون دیتا ہے


گھنے درختوں کا سایہ سکون دیتا ہے


یہ دو مصرعے اس بابا، اس سادھو کی خدمت کا اعتراف ہیں جس نے پیڑ لگانا اور انہیں اولاد کی طرح پروان چڑھانا اپنی زندگی ک مقصد بنا لیا ہے ۔ جی ہاں لکھنئو شہر کی شمالی سرحد پر واقع مکتی دھام کے بابا منیش تیواری نے پیڑ لگانا اور پیڑ بچانا اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا ہے اور وہ اپنے اس عمل کی وجہ سے پورے علاقے میں پیڑوں والے بابا کے نام سے مشہور ہو گئے ہیں ۔


گزشتہ پندرہ سال میں بابا نے ہزاروں پیڑ لگائے ، کچھ نذر خزاں ہوگئے، کچھ ماحول کی آلودگی اور کثافت کے سبب اپنے آپ میں سمٹ کر موجودہ عہد کی مذموم فضا دیکھنے کو تیار نہیں ہوئے لیکن سیکڑوں پیڑ سر سبز و شادابی کی منزلیں طے کرتے ہوئے تناور درختوں میں تبدیل ہوگئے ۔ منیش بابا کہتے ہیں کہ اگر انسان زندگی کا مقصد سمجھ لے تو انسان ہی کیا چرند پرند اور شجر ہجر  کے ساتھ بھی ناروا سلوک نہ کرے ۔ بابا کہتے ہیں میرے ہاتھ کے لگائے ہوئے پودے مجھ سے بات کرتے ہیں، پانی وقت پر نہ ملے تو اداس ہوکر شکوے گلے کرتے ہیں ، میری محبت پر اظہار مسرت کرتے ہوئے اپنی بانہوں جیسی ٹہنیاں میرے گلے میں ڈال دیتے ہیں ۔ یہ میرے قدموں کی آہٹ پہچانتے ہیں اور میں ان کی پیاس کی شدت کو اپنے گلے اپنے بدن میں محسوس کرتا ہوں ۔ ان پیڑوں کے ساتھ رہنے سے احساس ہوا کہ پیڑ پودوں میں زباں ہوتی ہے دل ہوتے ہیں۔

بابا منیش ایک پڑے لکھے انسان ہیں ۔ سنیاس لے کے کر مکتی دھام میں زندگی گزارتے ہیں ۔ روز گومتی کے ساحل سے خود پانی بھر کر لاتے ہیں اور اپنے لگائے گئے پیڑ پودوں کی بے لوث خدمت کرتے ہیں ۔ نہ شہرت کی تمنا ہے نہ صلے کی پروا ، بس ایک جذبہ ہے کہ آنے والی نسل مسائل اور زندگی کی دھوپ سے محفوظ رہ سکے ۔ بہترین ہوا اور صاف ستھری فضا میں سانس لے سکے ۔

بابا نے شادی نہیں کی ، اپنا سب کچھ چھوڑ کر مکتی دھام میں وشرام کیا ۔ بابا کہتے ہیں ان پیڑوں کا مذہب انسانیت کی خدمت کرنا ہے ۔ ان کا خدا جس طرح ہر مذہب کے لوگوں کا خیال رکھتا ہے ، اسی طرح یہ بھی ہر مذہب کے لوگوں کو پھل پھول اور سایہ دیتے ہیں ۔ یہ پیڑ ہی میرے رشتے دار ہیں میرے دوست میرے عزیز ہیں ۔

خاص طور سے مجھے اُن پیڑوں کو ہرا بھرا دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے ، جو سوکھتے سوکھتے شاداب ہو گئے اور اب زندگی کو خدا کی نعمت اور کرم سمجھ کر دھوپ میں جلتے سلگتے انسانوں کو سایہ فراہم کر رہے ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 18, 2020 05:13 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading