உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہندوستان کو حقیقی خطرہ پاکستان سے نہیں چین سے ہے، چین کے معاملے میں حکومت کو کمزوری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے: ملائم

    لوک سبھا میں وقفہ صفر کے دوران کانگریس کے جیوترادتیہ سندھیا کے ذریعہ یہ معاملہ اٹھائے جانے کے بعد مسٹر یادو نے کہا کہ اتراکھنڈ میں چین کی دراندازی کا معاملہ کافی سنگین ہے اور ملک اور حکومت کو چین سے ہوشیار رہنا چاہئے۔

    لوک سبھا میں وقفہ صفر کے دوران کانگریس کے جیوترادتیہ سندھیا کے ذریعہ یہ معاملہ اٹھائے جانے کے بعد مسٹر یادو نے کہا کہ اتراکھنڈ میں چین کی دراندازی کا معاملہ کافی سنگین ہے اور ملک اور حکومت کو چین سے ہوشیار رہنا چاہئے۔

    لوک سبھا میں وقفہ صفر کے دوران کانگریس کے جیوترادتیہ سندھیا کے ذریعہ یہ معاملہ اٹھائے جانے کے بعد مسٹر یادو نے کہا کہ اتراکھنڈ میں چین کی دراندازی کا معاملہ کافی سنگین ہے اور ملک اور حکومت کو چین سے ہوشیار رہنا چاہئے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔  سماج وادی پارٹی کے لیڈر ملائم سنگھ یادو نے اتراکھنڈ میں حال ہی میں چین کی دراندازی کے معاملے میں آج پھر وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو حقیقی خطرہ پاکستان سے نہیں بلکہ چین سے ہے اور اس سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ لوک سبھا میں وقفہ صفر کے دوران کانگریس کے جیوترادتیہ سندھیا کے ذریعہ یہ معاملہ اٹھائے جانے کے بعد مسٹر یادو نے کہا کہ اتراکھنڈ میں چین کی دراندازی کا معاملہ کافی سنگین ہے اور ملک اور حکومت کو چین سے ہوشیار رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ چین کی یہ پالیسی رہی ہے کہ جب وہ کمزور ہوتا ہے تو خاموش بیٹھ جاتا ہے اور جب اس کی طاقت بڑھنے لگتی ہے تو وہ حملہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔


      مسٹر یادو نے کہا کہ چین نے پاکستان کے ساتھ سانٹھ گانٹھ کررکھا ہے ۔ اس لئے ہمیں پاکستان سے اپنے رشتے خراب نہیں کرنا چاہے اور اس سے بات چیت جاری رکھنی چاہئے جب کہ چین کے معاملے میں حکومت کو کمزوری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے اور اس کی دھمکیوں کا مناسب جواب دینا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ چین نے ہندوستان کو کبھی دوست نہیں مانا ہے ۔ سابق وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے چین کے ساتھ خیر سگالی کا مظاہرہ کیا تھا لیکن اس نے ہندوستان پر حملہ کردیا۔


      اس سے قبل کانگریس کے جیوترادتیہ سندھیا نے اتراکھنڈ میں چین کی دراندازی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ریاست میں نو دن قبل یہ واقعہ پیش آیا لیکن مرکزی حکومت اب تک خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔ انہوں نے وزیر دفاع یا وزیر داخلہ سے اس معاملے میں ایوان میں پوزیشن واضح کرتے ہوئے جواب دینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اروناچل پردیش میں بھی چین کی دراندازی کے واقعات ہو رہے ہیں جن پر حکومت کو جواب دینا چاہئے۔


      بی جے پی کے بھگت سنگھ کوشیاری نے اتراکھنڈ میں دراندازی کے معاملے کو درست نہیں قرار دیتے ہوئے کہا کہ حقیقت میں وہاں خطہ ناکس ہے جہاں چین کے فوجی اکثرآتے رہتے ہیں اور ہندوستانی فوجیوں کی طرف سے وارننگ دئے جانے کے بعد وہ واپس لوٹ جاتے ہیں۔ حالانکہ بعد میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر یہ واقعہ درست ہے تو وہاں کی حکومت نے اس پر کیا کیا، اس نے کوئی کارروائی کیوں نہیں کی ۔ ترنمول کانگریس کے سوگت رائے نے بھی چین کی دراندازی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اس پر کارروائی کرنی چاہئے اور ایوان میں اس سلسلے میں بیان دینا چاہئے۔ پارلیمانی امور کے وزیر اننت کمارنے اس سلسلہ میں اراکین کی تشویش پر کہا کہ ملک کے اتحاد اور سالمیت سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس معاملے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ ے گی۔

      First published: