உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    گیان واپی مسجد کے نیچے کھدائی پر لگی روک کی مدت میں 6 دسمبر تک کی توسیع

    گیان واپی مسجد کے نیچے کھدائی پر لگی روک کی مدت میں 6 دسمبر تک کی توسیع

    گیان واپی مسجد کے نیچے کھدائی پر لگی روک کی مدت میں 6 دسمبر تک کی توسیع

    بنارس کی گیان واپی مسجد کے نیچے مندر کے آثار کی تلاش اور اس کی کھدائی کرنے کے معاملہ میں سول عدالت کے فیصلے پر الہ آباد ہائی کورٹ کی طرف سے لگی روک میں آئندہ چھ دسمبر تک کے لیے توسیع کر دی گئی ہے۔

    • Share this:
    پریاگ راج : بنارس کی گیان واپی مسجد کے نیچے مندر کے آثار کی تلاش اور اس کی کھدائی کرنے کے معاملہ میں سول عدالت کے فیصلے پر الہ آباد ہائی کورٹ کی طرف سے لگی روک میں آئندہ چھ دسمبر تک کے لیے توسیع کر دی گئی ہے۔ سنی سینٹرل وقف بورڈ اور انجمن انتظامیہ کمیٹی نے محکمہ آثار قدیمہ کی طرف سے کھدائی کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ میں عرضی داخل کر رکھی ہے ۔ اسی کے ساتھ ہائی کورٹ نے سول عدالت میں چل رہی گیان واپی مسجد معاملے کی پروسیڈنگ پر بھی روک لگانے کا حکم دیا ہے۔

    بنارس کی گیان واپی مسجد کے نیچے محکمہ آثار قدیمہ کی طرف سے کھدائی کرانے  کے بنارس سول عدالت کے فیصلے پر الہ آباد ہائی کورٹ نے فی الحال روک لگا دی ہے۔ بنارس کی ویشیسور ناتھ مندر کمیٹی نے مقامی سول عدالت میں ایک عرضی داخل کی تھی ۔ عرضی میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سن 1664 میں مغل بادشاہ اورنگ زیب کے حکم پر مندر توڑ کر گیان واپی مسجد کی تعمیر کرائی گئی تھی ۔

    مندر کمیٹی عرضی پر سماعت کے بعد سول عدالت نے محکمہ آثار قدیمہ کو گیان واپی مسجد کے نیچے کھدائی کرنے کا حکم دیا تھا ۔ مقامی عدالت کے اس فیصلے کے خلاف سنی سینٹرل وقف بورڈ اور گیان واپی مسجد کی انجمن انتظامیہ کمیٹی نے الہ آباد ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی تھی ۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں آثار قدیمہ کی کھدائی اور سول عدالت کی پروسیڈنگ پر روک لگا دی ہے ۔

    سنی سینٹرل وقف بورڈ اور انجمن انتظامیہ کمیٹی کی طرف سے عدالت میں یہ دلیل دی گئی تھی کہ گیان واپی مسجد کی اراضی کی ملیت کا معاملہ ابھی ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے ، ایسے میں محکمہ آثار قدیمہ کی طرف سے مسجد کی کھدائی یا سروے کرانا ضابطے کی سخت خلاف ورزی ہوگی ۔ گرچہ عدالت نے محکمہ آثار قدیمہ کی کھدائی پر روک لگا دی ہے ۔ تاہم اس سلسلے میں عدالت کا حتمی فیصلہ آنا ابھی باقی ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: