உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سی اے اے پر احتجاج : جامعہ ملیہ اسلامیہ کے باہر طلبہ نے ادا کی نماز ، دیگر لوگوں نے بنایا گھیرا

    سی اے اے پر احتجاج : جامعہ ملیہ اسلامیہ کے باہر طلبہ نے ادا کی نماز ، دیگر لوگوں نے بنایا گھیرا

    سی اے اے پر احتجاج : جامعہ ملیہ اسلامیہ کے باہر طلبہ نے ادا کی نماز ، دیگر لوگوں نے بنایا گھیرا

    سی سی اے کے خلاف احتجاج کی وجہ سے دہلی کے کچھ علاقوں میں موبائل اور انٹرنیٹ خدمات بھی جمعرات کو بند کردیا گیا تھا ۔

    • Share this:
      شہریت ترمیمی قانون 2019 کے خلاف قومی راجدھانی دہلی میں احتجاج تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔ دہلی میں متعدد میٹرو اسٹیشنوں پر سروسز اور کچھ علاقوں میں انٹرنیٹ اور موبائل خدمات بھی متاثر ہوئیں ۔ اس درمیان دہلی کے جامعہ نگر سے بھائی چارہ کی مثال پیش کرنے والی خبر سامنے آئی ہے ۔ یہاں مظاہرہ کررہے مسلم طلبہ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے باہر نماز ادا کی اور اس دوران دیگر مذاہب کےلوگ ان کے تحفظ کیلئے چاروں جانب انسانی زنجیر بناکر کھڑے نظر آئے ۔

      بتادیں کہ سی سی اے کے خلاف احتجاج کی وجہ سے دہلی کے کچھ علاقوں میں موبائل اور انٹرنیٹ خدمات بھی جمعرات کو بند کردیا گیا تھا ۔ تقریبا دو گھنٹوں تک موبائل اور انٹرنیٹ خدمات بند رہیں اور پھر بعد میں انہیں بحال کردیا گیا ۔ دہلی پولیس نے منڈی ہاوس علاقہ اور لال قلعہ علاقہ میں دفعہ 144 نافذ کردیا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی دہلی پولیس کمشنر نے سبھی اضلاع میں الرٹ جاری کیا ہے ۔

      دہلی پولیس کی اسپیشل برانچ کے ڈپٹی کمشنر ایس کشواہا کی جانب سے سی اے اے کے خلاف مظاہروں کو دھیان میں رکھتے ہوئے ٹیلی کام کمپنیاں رلائنس جیو، بھارتی ایئرٹیل، ووڈا۔آئیڈیا، بی ایس این ایل اور ایم ٹی این ایل سے کہا گیا تھا کہ وہ دار الحکومت نئی دہلی کے کچھ حصوں میں موبائل سروسز معطل کردیں۔ بعد ازاں ٹیلی کام کمپنیاں انٹرنیٹ، ایس ایم ایس اور وائس کال سروسز کو معطل کر دیا۔

      موبائل سروسز قومی راجدھانی کے جن علاقوں میں پوری طرح معطل کی گئی تھیں ان میں شمال اور وسطی ضلع کی پرانی دہلی ، منڈی ہاؤس، شمال ۔ مشرق دہلی کے جعفرآباد ، مصطفی آباد اور سیلم پور، جامعہ نگر اور شاہین باغ اور بوانا وغیرہ شامل ہیں ۔ پولیس نے کہا تھا کہ صبح نو بجے سے دوپہر ایک بجے تک موبائل سروسز معطل رہیں گی۔ موبائل سروسز معطل ہونے کی وجہ سے عوام کو مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔



      یو این آئی کے ان پٹ کے ساتھ ۔
      First published: