ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مولانا آزاد فیلو شپ کے لئے نیٹ لازمی کئے جانے کا فیصلہ منسوخ کیاجائے: طلبا تنظیموں کا مطالبہ

اقلیتی طلبا کو دی جانے والی مولانا آزاد فیلو شپ کے لئے یوجی سی نیٹ کی شرط لگائے جانے کی طلبا تنظیمیں مخالفت کررہے ہیں۔ طلبا تنظیموں کا کہنا ہے کہ نیٹ لا گو کرنا اس اسکیم کو بند کرنے کی سازش ہے۔

  • Share this:
مولانا آزاد فیلو شپ کے لئے نیٹ لازمی کئے جانے کا فیصلہ منسوخ کیاجائے: طلبا تنظیموں کا مطالبہ
اقلیتی طلبا کو دی جانے والی مولانا آزاد فیلو شپ کے لئے یوجی سی نیٹ کی شرط لگائے جانے کی طلبا تنظیمیں مخالفت کررہے ہیں۔ طلبا تنظیموں کا کہنا ہے کہ نیٹ لا گو کرنا اس اسکیم کو بند کرنے کی سازش ہے۔

نئی دہلی: اقلیتی طلبا کو دی جانے والی مولانا آزاد فیلو شپ کے لئے یوجی سی نیٹ کی شرط لگائے جانے کی طلبا تنظیمیں مخالفت کررہے ہیں۔ طلبا تنظیموں کا کہنا ہے کہ نیٹ لا گو کرنا اس اسکیم کو بند کرنے کی سازش ہے۔ مرکزی وزارت برائے اقلیتی امور مسلم، بودھ، عیسائی، جین اور پارسی اور سکھ طبقے کے طلبا کو مولانا آزاد فیلو شپ دیتا ہے۔ غریب اقلیتی طلبا کے لئے آزاد فیلو شپ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی آخری اور پہلی امید ہے، پہلے فیلو شپ میرٹ کی بنیاد پر دی جاتی تھی، لیکن آپ بھی یوجی سی نیٹ پاس کرنے کی شرط لگادی گئی ہے۔

اقلیتوں سے منسلک طلبا تنظیمیں اس شرط کی مخالفت کررہے ہیں اور اس شرط کو فیلو شپ بند کرنے کی سازش بتارہے ہیں۔ اسکیم کے تحت پہلے صرف 756 فیلو شپ دی جاتی تھی، لیکن اب سرکار نے اب اسے بڑھا کر 1000 کردیا ہے، جس میں سے 734 فیلو شپ مسلم طلبا کے لئے جبکہ 264 فیلوشپ دوسرے اقلیتی طبقے کے طلبا کے لئے ہیں، لیکن ساتھ ہی یوجی سی نیٹ پاس کرنے کی شرط بھی لگادی گئی ہے۔ طلبا تنظیموں کا کہنا ہے کہ یوجی سی نیٹ جیسے مشکل امتحان کو پاس کرنے کی شرط ایس سی ایس ٹی کے لئے ہے تو پھر اقلیتوں پر کیوں یہ شرط ہوتی جارہی ہے۔

طلبا تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ سرکار 1000 فیلو شپ کو 3000 کرے اور نیٹ کی شرط کو ختم کرے۔ اس فیلوشپ سے منسلک  ایک پہلو یہ بھی ہے کہ سال 2013 کے بعد فیلو شپ کا بجٹ کم کردیا گیا۔ 90 کروڑ کے بجٹ کو 60 کروڑ کیا گیا اور اس کے بعد 50 کروڑ روپئے کردیا گیا، یہی وجہ ہے کہ اقلیتی طلبا اور اقلیتی تنظیمیں حکومت سے ناراض ہیں۔

جے این یو طلبہ یونین کی سابق نائب صدر شہلا راشد شوری نے کہاکہ مولانا آزاد فیلو شپ میں نیٹ کو لازمی قرار دینا، اقلیتوںپر سیدھا حملہ ہے۔ ایک طرف سرکار کہتی ہے کہ اقلیتیں سماجی اور تعلیمی لحاظ سے پیچھے ہیں، ہم ان کو مساوی حقوق دے کر انہیں آگے لانا چاہتے ہیں، پھر جب ان کو ہائر ایجوکیشن سے روکا جارہا ہے تو پھر وہ کیسے آگے آئیں گے۔ شہلا راشد نے کہاکہ سرکار جان بوجھ کر اقلیتوں سے متعلق پالیسیوں کو دبانا چاہتی ہے اور انہیں تعلیم میں مزید پیچھے دھکیلنا چاہتی ہے۔


شہلا راشد شوری اور میران حیدر  کا نیٹ کی لازمیت کو ختم کرنے کا مطالبہ

شہلا راشد  نے کہا کہ کم از کم تعلیم کے معاملے میں سرکار کو اپنی نیت صاف کرنی چاہئے اور اقلیتوں کے تعلیمی اداروں اور ان کے لئے دی جانے والی اسکالر شپ کو مشکل نہ بنائے، تاکہ تعلیم کے ذریعہ اقلیتیں بھی ملک کی ترقی میں اپنا تعاون دے سکیں۔ شہلا راشد نے ممبئی میں ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ سے ایس سی ایس ٹی اسکالرشپ ختم کرنے کی کوشش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب کو اتحاد کے ساتھ ایک بار پھر آنا ہوگا، تاکہ ہم سرکار سے اپنی بات منوا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہےکہ سرکار کی نظر میںاقلیتوں کو اسکالر شپ دینا گناہ ہوگیا ہے، جس کی وجہ سے وہ اتنے سخت قانون بنارہی ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا لیڈر میران حیدر نے کہاکہ سرکار کو مولانا آزاد فائونڈیشن سے نیٹ کو لازمی قرار دینے کافیصلہ واپس لیا چاہئے ، یہ کسی بھی صورت میں درست نہیں ہے۔ ساتھ ہی اسکالر شپ کی تعداد کو بھی 1000سے بڑھا کر 3000 کیاجانا چاہئے۔ کیونکہ اقلیتی طلبا کے ساتھ ناانصافی کیاجانا انتہائی افسوسناک ہے۔
خرم شہزاد کی رپورٹ
First published: Apr 25, 2018 09:45 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading