ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

وظائف نہ ملنے سے طلبا و طالبات پریشان، اردو اکادمی کی وضاحت، جلد حل کئے جائیں گے مسائل

ایس رضوان کے مطابق وظائف کی ادائیگی کا معاملہ اکادمی کی جانب سے نہیں بلکہ ڈاک نظام کی وجہ سے متاثر ہوا ہے۔ بیشتر ڈاک واپس آگئی ہے جسے دوبارہ بھیجنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

  • Share this:
وظائف نہ ملنے سے طلبا و طالبات پریشان، اردو اکادمی کی وضاحت، جلد حل کئے جائیں گے مسائل
وظائف نہ ملنے سے طلبا و طالبات پریشان، اردو اکادمی کی وضاحت، جلد حل کئے جائیں گے مسائل

لکھنئو۔ کورونا کے سبب کئی محکموں کی طرح محکمہء لسانیات بھی بری طرح متاثر ہوا ہے اور اس محکمے تحت کام کرنے والے اردو فروغ کے اداروں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اتر پردیش اردو اکادمی کے سکرٹری ایس رضوان کے مطابق ،کچھ ایسے اہم کام ہیں جو کورونا کے سبب انجام کو نہیں پہنچ سکے ہیں جیسے نئے کوچنگ سینٹروں کا قیام، بزرگ ادیبوں شاعروں کو جاری کی جانے والی پنشن،آئی ایس آئی سنٹر میں داخلے،انعامات کی تقسیم کے لئے کمیٹی کی تشکیل،طلبا و طالبات کو دئے جانے والے وظائف،امدادِ مصنفین ، اردو فروغ پر مبنی پروگراموں کا انعقاد اور کتابوں کی اشاعت یہ وہ کام ہیں جو ہوئے نہیں کچھ کام اتنی سست رفتاری سے ہو رہے ہیں کہ لوگوں کی پریشانی کا باعث بن رہے ہیں۔


ایس رضوان کے مطابق وظائف کی ادائیگی کا معاملہ اکادمی کی جانب سے نہیں بلکہ ڈاک نظام کی وجہ سے متاثر ہوا ہے۔ بیشتر ڈاک واپس آگئی ہے جسے دوبارہ بھیجنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ تعطل کی بڑی وجہ کورونا کی پیر پھیلاتی وبا تو ہے ہی ساتھ ہی چئیرپرسن کا نہ ہونا اور اہم فیصلے نہ کئے جانا ہے۔ چئرمین کا انتخاب ہو ،مجلس عاملہ کی  تشکیل ہو، ذیلی کمیٹیاں بنائی جائیں تو سارے کام معمول پر آجائیں گے۔ فی الحال جو کام سکریٹری کے اختیار میں ہیں وہ بدستور کئے جارہے ہیں ۔۔ حقیقت یہ بھی ہے کہ اہل اردو جو شکایتیں کر رہے ہیں وہ واقعی قابل غور  ہیں۔ ایسے حالات میں بڑا مسئلہ ان غریب بچوں کاہے جو اکادمی سے اونٹ کے منھ میں زیرے کے مصداق وظیفے پاتے ہیں اور موجودہ حالات میں انہیں وہ بھی نہیں مل پا رہے ہیں۔ بزرگ ادیبوں اور قلمکاروں کو بھی امدادی رقم نہ مل پانے کے سبب دشواریوں کا سامنا ہے۔


یہی صورت حال کم و بیش فخرالدین علی احمد میموریل کمیٹی کی بھی ہے۔ چئرمین موصوف تو ویسے ہی کم نظر آتے تھے اور اب تو کورونا سے احتیاط کا بہانہ بھی ہے ، تاہم اتنا ضرور ہے کہ فخرالدین کمیٹی نے مجموعوں کی اشاعت کے کام کو جاری رکھا ہے لیکن ڈاک نظام درست نہ ہونے کے سبب مبصروں تک ہی مسودات نہیں پہنچ پا رہے ہیں۔ رہی دوسرے کاموں کی بات تو وہ بھی بری طرح بلکہ یوں کہا جائے کہ پوری طرح متاثر ہیں۔ کئی قصبوں اور شہروں کے طلبا وطالبات کے مطابق  حکومت کی ہدایات کے باوجود بھی پرائویٹ اسکولوں میں آن لائن کلاسز کے نام پر پوری فیس طلب کی جارہی ہے۔ دباو بنایا جا رہاہے۔ ایسے میں بچوں کو وظائف نہ ملنے کے سبب بڑی دشواریوں کا سامنا ہے۔ سکریٹری رضوان احمد کہتے ہیں کہ اس باب میں اہم پیش رفت کرتے ہوئی کوئی صورت نکالی جائے گی جس سے غریب بچوں کی تعلیم پر منفی اثرات مرتب نہ ہوں۔

Published by: Nadeem Ahmad
First published: Sep 11, 2020 03:13 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading