உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اجودھیا میں رام مندر کی تعمیر سال کے آخر تک مکمل ہوجائے گی:سبرامنیم سوامی

    ممبئی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر و سابق مرکزی وزیر سبرامنیم سوامی نے دعوی کیا ہے کہ اجودھیا میں رام مندر کی تعمیر امسال کے آخر تک مکمل ہوجائے گی اور ملک کا ہندورام نومی کا تہوار2017ء میں رام مندر میں منائے گا ۔

    ممبئی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر و سابق مرکزی وزیر سبرامنیم سوامی نے دعوی کیا ہے کہ اجودھیا میں رام مندر کی تعمیر امسال کے آخر تک مکمل ہوجائے گی اور ملک کا ہندورام نومی کا تہوار2017ء میں رام مندر میں منائے گا ۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      ممبئی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر و سابق مرکزی وزیر سبرامنیم سوامی نے دعوی کیا ہے کہ اجودھیا میں رام مندر کی تعمیر امسال کے آخر تک مکمل ہوجائے گی اور ملک کا ہندورام نومی کا تہوار2017ء میں رام مندر میں منائے گا ۔ حال ہی میں اشتعال انگیزی کے لیئے تشہیر پائے سبرامنیم سوامی نے کہا کہ سپریم کورٹ سے اجازت حاصل کرنے کے بعدتین ماہ کے اندر رام مندر تعمیر ہوجائے گی کیونکہ اس کا 80 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے ۔ ممبئی میں وراٹ ہندو سنگم نامی تنظیم کی جانب سے ’’رام مندر کب بنے گا اورکیسے ‘‘ کے عنوان پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سبرامنیم سوامی نے کہا کہ انہوں نے سپریم کورٹ میں اس کی ملکیت کے تعلق سے ایک عرضداشت داخل کی ہے اور اس کی روز بہ روز سماعت کا مطالبہ کیا ہے نیز انہیں توقع ہے کہ عدالت ان کے حق میں فیصلہ دے گی اور جلد ہی رام مندر تعمیر ہوجائے گا اور پوری دنیا کے ہندو رام للا کی رام مندر میں جاکر پوجا کرسکیں گے ۔


      انہوں نے کہا کہ ہم رام مندر کے معاملے میں کسی بھی قسم کی مفاہمت کے لیئے تیار نہیں ہیں اور رام مندر کی تعمیر سمیت الہ آباد میں وشوناتھ مندر، کاشی متھورا میں کشن مندرکے تعلق سے کسی بھی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جائے اور ہر قیمت پر ان تینوں منادر کو تعمیر کیا جائیگا ۔ اس موقع پر بی جے پی قیادت والی مرکزی حکومت کے اعلی سرکاری وکیل ایڈیشنل سالیسٹر جنرل آف انڈیا جی راج گوپالن نے بھی خطاب کیا اور انہوں نے رام مندر کے تعلق سے قانونی نکات کو سامعین کے سامنے پیش کیا ۔ مسٹر گوپالن نے کہا کہ آثار قدیمہ نے اس بات کی تصدیق کردی ہیکہ متنازعہ مقام بھگوان رام کی جائے پیدائش ہے اور وہاں مندر کو منہدم کرکے 1528 میں مسجد تعمیر کی گئی تھی ۔ مرکزی حکومت کے اعلیٰ سرکاری وکیل کی اس تقریب میں شرکت پر قانونی حلقوں میں بھی چئے مگوئیاں ہورہی ہیں ۔


      اسی درمیان سبرامنیم سوامی نے چند اخبارنویسیوں سے بھی خطا ب کیا جس کے دوران جب ان سے یہ دریافت کیا گیا کہ اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات کے پیش نظر رام مندر کا پھر معاملہ اٹھایا گیا ہے تاکہ بی جے پی کو اس کا سیایسی فائدہ حاصل ہو ۔ سابق مرکزی وزیر نے اسے بے بنیاد بتاتے ہوئے کہا کہ اگر کچھ لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ رام مندر کی تعمیر سے بی جے پی کو فائدہ حاصل ہوگا تو  اپوزیشن کو چاہئے کہ وہ خود رام مندر تعمیر کرکے سیاسی فائدہ حاصل کرے ۔ انہوں نے سپریم کورٹ میں اپنے مقدمہ کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ رام مندر کی تعمیر کے تعلق سے انہوں نے کئی ایک مسلم لیڈران سے رابطہ قائم کیا تھا جنہوں نے اس کی تعمیر کے لئے تعاون دینے کا وعدہ کرتے ہوئے اسے ہر ی جھنڈی دکھلائی تھی لیکن جب ان لیڈران کے وکلاء سپریم کورٹ میں مقدمہ کی پیروی کے لئے حاضر ہوئے تو انہوں نے اس معاملے میں چپی سادھ لی یہاں تک کے سپریم کورٹ نے بھی انہیں ہدایت دی کہ وہ مسلم لیڈران سے تحریری طور پر یہ یقین دہانی حاصل کریں کہ رام مندر کی تعمیر میں انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے نیز اگر انہیں اعتراض بھی ہے تو اس کا بھی وہ تحریری ثبوت عدالت میں پیش کریں۔

      First published: