உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مہاتما گاندھی کے قتل پر بحث کی ضرورت : سبرامنیم سوامی

    انہوں نے کہا کہ حال ہی میں مودی حکومت نے مہاتما گاندھی کے قتل سے متعلق زیادہ تر فائلوں کو قومی عجائب گھر میں ڈال دیاہے ، مجھے انہیں پڑھنے کا موقع ملا، اس پر بہت سے تبصرے کئے گئے ہیں ، جس میں ممبران پارلیمنٹ کا تبصرہ بھی شامل ہے ۔ سپریم کورٹ نے بھی انہیں خبردار کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حال ہی میں مودی حکومت نے مہاتما گاندھی کے قتل سے متعلق زیادہ تر فائلوں کو قومی عجائب گھر میں ڈال دیاہے ، مجھے انہیں پڑھنے کا موقع ملا، اس پر بہت سے تبصرے کئے گئے ہیں ، جس میں ممبران پارلیمنٹ کا تبصرہ بھی شامل ہے ۔ سپریم کورٹ نے بھی انہیں خبردار کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حال ہی میں مودی حکومت نے مہاتما گاندھی کے قتل سے متعلق زیادہ تر فائلوں کو قومی عجائب گھر میں ڈال دیاہے ، مجھے انہیں پڑھنے کا موقع ملا، اس پر بہت سے تبصرے کئے گئے ہیں ، جس میں ممبران پارلیمنٹ کا تبصرہ بھی شامل ہے ۔ سپریم کورٹ نے بھی انہیں خبردار کیا ہے۔

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ سبرامنیم سوامی نے آج ایوان میں مہاتما گاندھی کے قتل کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ گاندھی جی کی لاش کا پوسٹ مارٹم نہیں کیا گیا تھا۔ سوامی نے کانگریس کی مخالفت کے درمیان اس معاملہ کو اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس پر بحث کی جانی چاہئے ، کیونکہ لیڈران اس پر تبصرہ کر رہے ہیں اور اس کی سپریم کورٹ نے بھی تنقید کی ہے۔
      انہوں نے کہا کہ حال ہی میں مودی حکومت نے مہاتما گاندھی کے قتل سے متعلق زیادہ تر فائلوں کو قومی عجائب گھر میں ڈال دیاہے ، مجھے انہیں پڑھنے کا موقع ملا، اس پر بہت سے تبصرے کئے گئے ہیں ، جس میں ممبران پارلیمنٹ کا تبصرہ بھی شامل ہے ۔ سپریم کورٹ نے بھی انہیں خبردار کیا ہے۔
      خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے حال ہی میں کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی کی طرف سے مہاتما گاندھی کے قتل کے لئے آر ایس ایس کی مذمت کے معاملہ پر کہا تھا کہ راہل گاندھی کو ان الزامات کے لئے سماعت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔کانگریس کے ارکان نے یہ کہتے ہوئے اس کی مخالفت کی کہ کسی کا نام نہیں لینا چاہئے۔ سوامی نے اس کے جواب میں کہا ہے کہ میں صرف مہاتما گاندھی کا نام لوں گا، میں کسی اور گاندھی کا نام نہیں لوں گا۔
      انہوں نے کہا ہے کہ مہاتما گاندھی کی لاش کا پوسٹ مارٹم نہیں کیا گیا۔ نتیجہ یہ رہا کہ مہاتما گاندھی پر کتنی گولیاں چلائی گئیں، اس کو لے کر تنازع پیدا ہوا۔ اخبارات میں چار گولیاں چلانے کا حوالہ دیا گیا ، جبکہ پراسیکوٹر نے تین گولیاں چلنے کی بات کہی۔
      First published: