ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مندر و مسجد میں تالے لگے ہیں اور مدھو شالائیں کھول دی گئی ہیں: صوفی اسلامک بورڈ نے اٹھائی آواز

صوفی اسلامک بورڈ کی جانب سے ملک اور ملک کے عوام کے سماجی مذہبی اور جمہوری حقوق کے باب میں آواز اٹھاتے ہوئے معروف صوفی حسنین بقائی نے کہا ہے کہ شرابوں کی دوکانیں کھولنے کا فیصلہ اور لاک ڈاون کی دھجیاں اڑانے کا عمل نہ ملک کے مفاد میں ہے اور نہ عوام کے۔

  • Share this:
مندر و مسجد میں تالے لگے ہیں اور مدھو شالائیں کھول دی گئی ہیں: صوفی اسلامک بورڈ نے اٹھائی آواز
مندر و مسجد میں تالے لگے ہیں اور مدھو شالائیں کھول دی گئی ہیں: صوفی اسلامک بورڈ نے اٹھائی آواز

لکھنئو۔ معروف تنظیم صوفی اسلامک بورڈ  اور کئی اہم سماجی و ملی اداروں اور  تنظیموں کے سربراہوں نے کہا ہے کہ ملک کے لئے اس سے بڑی بد نصیبی اور  شرم کی بات کیا ہوگی کہ مندر مسجد چرچ اور گُردواروں پر تالے لگے ہیں اور مدھو شالائیں کھولی جارہی ہیں۔پجاریوں ، پادریوں اور نمازیوں کو عبادت گاہوں میں جانے کے نام پر زد و کوب کیا جارہاہے، ان پر ایف آئی آر درج کی جارہی ہے اور شرابیوں کو لاک ڈاون کی دھجیاں اڑانے اور انہیں حیوانیت برپا کرنے کے لئے کھلا چھوڑا جارہا ہے۔


صوفی اسلامک بورڈ کی جانب سے ملک اور ملک کے عوام کے سماجی مذہبی اور جمہوری حقوق کے باب میں آواز اٹھاتے ہوئے معروف صوفی حسنین بقائی نے کہا ہے کہ شرابوں کی دوکانیں کھولنے کا فیصلہ اور لاک ڈاون کی دھجیاں اڑانے کا عمل نہ ملک کے مفاد میں ہے اور نہ عوام کے۔حکومت کے اس عمل سے ان تمام امن پسند شہریوں کو تکلیف پہنچی ہے جو کورونا سے لڑنے کے لئے سنجیدہ ہوکر حکومت کا تعاون کر رہے تھے۔ صوفی اسلامک بورڈ نے شراب خانوں کو فی الحال بند رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو خط لکھنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔


علامتی تصویر
علامتی تصویر


امامیہ ایجوکیشنل ٹرسٹ اور علمائے مجلس ہند سے تعلق رکھنے والے مولانا شباہت حسین کہتے ہیں کہ ایک طرف تو جماعت کے لوگوں کے خلاف کارروائی کا عالم یہ ہے کہ کسی بھی داڑھی ٹوپی والے شخص کو اٹھاکر جماعتی بتا دیا جاتا ہے۔ ان پر نہ صرف پولس ظلم کرتی ہے بلکہ شر پسند عناصر نے تو جماعت کے نام پر مسلمانوں کے خلاف فرقہ پرستی کے ایسے نمونے پیش کئے ہیں جن سے پورا ملک بالخصوص سیکولر مزاج لوگ یہ سوچنے اور یہ کہنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ فسطائی طاقتیں وبا کے دور میں بھی اپنے مذموم اور ناپاک منصوبوں کی تکمیل میں لگی ہوئی ہیں۔ کورونا کے خلاف جنگ اور امداد کے نام پر ہزاروں کروڑ کروڑ کا چندہ دینے والے مسلمانوں کا کہیں ذکر نہیں لیکن مسلم سبزی فروشوں کو سبزی بیچ کر پیٹ بھرنے کی بھی اجازت نہیں۔بر سر اقتدار لوگوں کو غور کرنا چاہئے کہ اب ظلم کی شدت کے خلاف صرف اندرون ملک ہی نہیں بلکہ بیرونی ممالک سے بھی آوازیں اٹھنے لگی ہیں لہٰذا متعصب اور فرقہ پرستی پر مبنی غیر انسانی رویوں کو روکنے کی ضرورت ہے۔

صوفی اسلامک بورڈ نے یہ بھی کہا ہے کہ رمضان کے مقدس و مبارک مہینے میں عابدوں کےخلاف سخت اور نا زیبا رویے اختیار کرنے اور شرابیوں کو کھلی چھوٹ دے کر حکومت کیا پیغام دینا چاہتی ہے اور ملک کو کس سمت میں لے جانا چاہتی ہے یہ بھی غور و فکر کا باعث ہے۔پہلے حکومت کو دوسرے اہم اداروں ، صنعتوں اور عبادت گاہوں کو کھولنا چاہئے تھا لیکن افسوس کہ مدھو شالائیں پہلے کھولی گئیں۔
First published: May 06, 2020 04:38 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading