ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

میں اب ایک زندہ لاش کے سوا کچھ اور نہیں: بم دھماکوں کے الزام میں 23 سال بعد جیل سے رہا ہوئے ایک مسلم نوجوان نے بیان کیا اپنا درد

نئی دہلی۔ اپنی زندگی کے قیمتی 23 سال جیل میں گزارنے کے بعد نثارالدین احمد سترہ دن پہلے جے پور کی ایک جیل سے رہا ہوئے ہیں۔

  • Agencies
  • Last Updated: May 30, 2016 04:40 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
میں اب ایک زندہ لاش کے سوا کچھ اور نہیں: بم دھماکوں کے الزام میں 23 سال بعد جیل سے رہا ہوئے ایک مسلم نوجوان نے بیان کیا اپنا درد
فوٹو: انڈین ایکسپریس

نئی دہلی۔ اپنی زندگی کے قیمتی  23 سال جیل میں گزارنے کے بعد نثارالدین احمد سترہ دن پہلے جے پور کی ایک جیل سے رہا ہوئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے انہیں گیارہ مئی کو تمام الزامات سے بری کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا حکم صادر کیا۔  نثارکو بابری مسجد کی شہادت کی پہلی برسی پر ہوئے ٹرین بم دھماکوں کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان بم دھماکوں میں دو مسافروں کی موت ہو گئی تھی اور 8 زخمی ہو گئے تھے۔ یہ گرفتاری 15 جنوری، 1994 کو حیدرآباد پولیس کی طرف سے کی گئی تھی۔ پولیس نے انہیں گلبرگہ، کرناٹک واقع ان کے گھر سے ان کو اٹھایا تھا۔ وہ تب فارمیسی سیکنڈ ایئر میں پڑھتے تھے۔


انڈین ایکسپریس میں چھپی ایک خبر کے مطابق، سترہ دن پہلے جب وہ جیل سے باہر آئے تو انہوں نے اپنے دو سالہ بڑے بھائی ظہیر الدین احمد کو باہر انتظار کرتے ہوئے دیکھا۔ نثار کہتے ہیں کہ میرے پاوں میں ایک خوفناک بھاری پن کا احساس ہوا۔ میں منجمد ہو گیا۔ ایک لمحہ کے لئے میں بھول گیا کہ اب میں جیل سے رہا ہو گیا ہوں۔


نثار کے مطابق ، 15 دن بعد ایک امتحان ہونا تھا۔ میں کالج جا رہا تھا۔ پولیس کی گاڑی انتظار کر رہی تھی۔ ایک شخص نے ریوالور دکھائی اور مجھے زبردستی اندر بٹھا لیا۔ کرناٹک پولیس کو میری گرفتاری کے بارے میں کوئی خبر ہی نہیں تھی۔ یہ ٹیم حیدرآباد سے آئی تھی۔ وہ مجھے حیدرآباد لے گئے۔ نثار کو 28 فروری، 1994 کو عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔


نثار کے بڑے بھائی سول انجینئر ظہیر الدین جو ممبئی میں رہتے تھے، انہیں اپریل میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ظہیر الدین نے کہا کہ ہمارے باپ نورالدین احمد نے ہمیں بے گناہ ثابت کرنے کی لڑائی کے لئے سب کچھ چھوڑ دیا۔ 2006 میں جب ان کی موت ہوئی اس وقت بھی انہیں امید نہیں تھی۔ اب وہاں کچھ بھی نہیں بچا۔ کوئی یہ تصور بھی نہیں کر سکتا ہے کہ ایسے خاندان پر کیا بیتی ہوگی جس کے دو جوان بیٹوں کو جیل میں ڈال دیا گیا ہو۔ نثار کی طرح ظہیر کو بھی عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی، لیکن صحت کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے انہیں 9 مئی، 2008 کو ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔ انہیں پھیپھڑوں میں کینسر ہو گیا تھا۔

ظہیر نے آگے بتاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عدالت کو کئی خطوط لکھے جس میں انہوں نے بتایا کہ کس طرح ان کو پھنسایا گیا۔ آخر کار عدالت نے ہم دونوں اور دو دیگر کو بے قصور قراردے دیا۔

وہیں نثار کہتے ہیں کہ میں نے اپنی زندگی کے 8 ہزار150 دن جیل کے اندر گزارے ہیں۔ میرے لئے زندگی ختم ہو چکی ہے۔ جسے آپ دیکھ رہے ہیں، وہ ایک زندہ لاش ہے۔ میں 20 سال کا ہونے والا تھا، جب انہوں نے مجھے جیل میں ڈال دیا۔ اب میں 43 سال کا ہوں۔ آخری بار جب میں نے اپنی چھوٹی بہن کو دیکھا تھا تب وہ 12 سال کی تھی۔ اب اس کی 12 سال کی ایک بیٹی ہے۔ میری بھانجی تب صرف ایک سال کی تھی، اس کی شادی ہو چکی ہے۔ پوری ایک نسل میری زندگی سے غائب ہو چکی ہے۔

کئی ساری قانونی پیچیدگیوں سے جوجھنے کے بعد جیل سے رہا ہوئے نثار کہتے ہیں کہ میں سپریم کورٹ کا شکرگزار ہوں کہ اس نے میری آزادی مجھے لوٹائی۔ لیکن اب میری زندگی مجھے کون لوٹائے گا؟
First published: May 30, 2016 03:11 PM IST